مرکزی حکومت کا فیصلہ، یکم جنوری سے عمل آوری، روڈ سیفٹی کو ترجیح
حیدرآباد۔ 31 ڈسمبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے سڑک پر حادثات کو روکنے اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لئے دو پہیہ گاڑیوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ نئے اصول کے مطابق یکم جنوری 2026 سے فروخت ہونے والی ہر نئی موٹر سائیکل اور اسکوٹر میں اینٹی لاک بریکنگ سسٹم (ABS) لازمی ہوگا۔ اب تک یہ سہولت صرف 150 سی سی یا اس سے زائد انجن والی بائیکس تک محدود تھی۔ مگر نئے ضابطے کے بعد چھوٹے اسکوٹر سے لے کر بڑی بائیکس تک تمام دو پہیہ گاڑیوں میں ABS فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی نئی گاڑی کی خریداری پر کمپنی کی جانب سے BIS سے تصدیق شدہ دو ہیلمیٹ مفت دیئے جائیں گے۔ عام طور پر اسپیڈ گاڑی چلانے کے دوران اچانک بریک لگانے پر پہیے جام ہو جاتے یا لاک ہو جاتے ہیں جس سے گاڑی کا توازن کھو جاتا ہے اور گاڑی پھسل کر گر جاتی ہے۔ مگر ABS کی موجودگی سے اچانک بریک لگانے کی صورت میں پہیوں کو مکمل طور پر لاک ہونے سے روکتی ہے جس کے باعث چند لمحوں تک وہ گھومتے رہتے ہیں اور گاڑی کا توازن برقرار رہتا ہے۔ اس نظام سے پھسلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر بارش کے دوران گیلی سڑکوں پر یا اس وقت جب اچانک سامنے کوئی رکاوٹ آنے پر ABS کنٹرول کرلیتا ہے اور حادثات کے امکانات نمایاں طور پر گھٹ جاتے ہیں۔ دو ہیلمیٹ لازمی کرنے کے پیچھے بھی اہم وجوہات ہیں۔ ملک میں سڑک حادثات میں ہونے والی مجموعی اموات میں 44 فیصد اموات دوپہیہ گاڑیوں کے حادثات کے باعث ہوتی ہیں۔ جن میں بڑی وجہ سرپر شدید چوٹ ہے۔ حکومت کا کہنا ہیکہ یہ فیصلہ نہ صرف ڈرائیور بلکہ پچھلی نشست پر بیٹھنے والے مسافر کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس لئے گاڑی کے ساتھ دو BIS مصدقہ ہیلمیٹ فراہم کئے جائیں گے۔ تاہم سڑک تحفظ میں اضافے کے ساتھ گاڑیوں کی قیمتوں میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔ ABS ٹکنالوجی اور معیاری دو ہیلمیٹ شامل ہونے کے باعث دو پہیوں کی گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً 2 ہزار تا 5 ہزار روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اضافی لاگت انسانی جانوں کے تحفظ کے مقابلے میں معمولی ہے اور اس اقدام سے سڑک حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔ 2