نئی شامی حکومت کا بشار الاسد کی ملیشیا کیخلاف سکیورٹی آپریشن

   

دمشق: شام میں ’’ملٹری آپریشنز ڈپارٹمنٹ‘‘ نے سکیورٹی کو کنٹرول کرنے اور طرطوس گورنری میں بشار الاسد کی حکومت کی باقیات کا پیچھا کرنے کیلئے ایک آپریشن شروع کردیا۔ مغربی شام میں اسد کی ملیشیا کے خلاف سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ نے وزارت داخلہ کے تعاون سے سکیورٹی، استحکام اور شہری امن کو کنٹرول کرنے اور طرطوس گورنری کے دیہی علاقوں میں جنگلات اور پہاڑیوں میں اسد کی ملیشیا کی باقیات کا پیچھا کرنے کیلئے آپریشن شروع کیا ہے۔دریں اثنا شام کی وزارت داخلہ نے دمشق کے دیہی علاقوں سے غیر قانونی ہتھیاروں کو واپس لینے کیلئے ایک مہم کا اعلان کیا۔ وزارت نے بعد میں اطلاع دی کہ کومبنگ آپریشن کے دوران دمشق کے دیہی علاقوں قدسیا میں مسلح افراد کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ شام میں ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ نے جھڑپوں کی وجہ سے قدسیا میں کرفیو نافذ کر دیا۔شام کی وزارت دفاع نے مطلوب افراد کیلئے 4 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی کہ وہ خود کو اور اپنے ہتھیاروں کے حوالے کر دیں۔ وزارت دفاع نے کہا چہارشنبہ کو بدامنی والے محلوں پر حفاظتی حصار نافذ کر دیا گیا تھا۔شام کے وزیر داخلہ محمد عبدالرحمن نے اعلان کیا تھا کہ وزارت داخلہ کے 14 ارکان ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ طرطوس گورنری کے دیہی علاقوں میں سابق حکومت کے ارکان کی طرف سے گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت دفاع شام کی سلامتی اور اس کے عوام کی زندگیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص پر آہنی ہاتھ سے حملہ کرے گی۔