نئی قومی سیاسی پارٹی کا 5 اکٹوبر دسہرہ کو کے سی آر اعلان کریں گے

,

   

جھنڈے اور ایجنڈہ کو قطعیت دیدی گئی، ریاستی وزراء اور ضلع صدور کے ساتھ اجلاس،9 ڈسمبر کو دہلی میں جلسہ عام کا فیصلہ
حیدرآباد۔/2اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاسی پارٹی کے اعلان کا مہورت طئے کرلیا ہے اور نئی پارٹی کے اعلان کیلئے وجئے دشمی یعنی دسہرہ کا تعین کیا گیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاسی پارٹی کے اعلان پر مشاورت کو آج تقریباً مکمل کرلیا اور پرگتی بھون میں ریاستی وزراء اور پارٹی کے ضلع صدور کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دسہرہ یعنی 5 اکٹوبر کو کے سی آر دوپہر 1:19 بجے نئی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ دسہرہ کو 11 بجے دن تلنگانہ بھون میں ٹی آر ایس کا توسیعی اجلاس منعقد ہوگا جس میں ارکان اسمبلی اور کونسل، ارکان پارلیمنٹ، ضلع پریشد کے صدور نشین، پارٹی کی ریاستی عاملہ کے قائدین کے بشمول جملہ 283 قائدین کو مدعو کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قائدین سے مشاورت کے بعد کے سی آر نے قومی پارٹی کا نام تبدیل کردیا ہے اب تک پارٹی کا نام ٹی آر ایس ہے جو 5 اکٹوبر سے بی آر ایس میں تبدیل ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں توسیعی اجلاس میں قرارداد منظور کی جائے گی۔ بعد میں دوپہر 1:19 بجے کے سی آر نئی قومی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے ایجنڈہ اور دیگر تفصیلات کا کے سی آر پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے۔ موجودہ پارٹی کی سرگرمیوں کو کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ قومی سطح پر پارٹی کا ایک ہی جھنڈا اور انتخابی نشان طئے کرنے کیلئے مشاورت کی گئی ہے اور قطعی اعلان دسہرہ کے دن کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر دسہرہ کے دن مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسان قائدین، مزدوروں کے قائدین اور دلتوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں سے پرگتی بھون میں اجلاس منعقد کریں گے۔ قومی سیاسی پارٹی کی سرگرمیوں کے باقاعدہ آغاز کیلئے 9 ڈسمبر کو دہلی میں بڑے جلسہ عام کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اہم قائدین اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں کو اجلاس میں مدعو کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کی ہیئت اور تلنگانہ کی طرح دیگر ریاستوں میں ضلع واری سطح پر استحکام کے طریقہ کار و حکمت عملی کو قطعیت دی گئی ہے۔ کے سی آر نے قائدین پر واضح کردیا کہ قومی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ قطعی ہے اور اس سلسلہ میں کسی کو شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک تمام قائدین نے قومی سیاسی پارٹی کے اعلان کی بھرپور حمایت کی ہے۔ بعض قائدین نے منوگوڑ ضمنی چناؤ کا حوالہ دیا جس میں ٹی آر ایس کی جگہ بی آر ایس کو مقابلہ کرنا ہوگا اور نئی پارٹی کا عوام میں تعارف پیش کرنے کیلئے قائدین کو جدوجہد کرنی پڑسکتی ہے۔ اگر انتخابی نشان نیا متعین کیا جائے تو رائے دہندوں کو نئے نشان سے واقف کرانے کی مہم چلانی ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ قومی سطح پر جو نشان طئے کیا جائے گا اُن میں ’ کار‘ کے نشان کے حصول کے امکانات زیادہ ہیں۔ پرگتی بھون کے اجلاس کے بعد ریاستی وزیر ستیہ وتی راٹھور نے کہا کہ دسہرہ کے موقع پر چیف منسٹر اہم اعلانات کریں گے۔ آر کانتا راؤ نے کہا کہ ملک کی عوام اور نوجوان کے سی آر کی قیادت کے منتظر ہیں کیونکہ موجودہ سیاسی پارٹیاں ان کی توقعات کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہیں۔ رکن پارلیمنٹ ایم کویتا نے کہا کہ تلنگانہ نے جو ترقی کی ہے اور فلاحی اسکیمات دیگر ریاستوں میں مقبولیت اختیار کرچکی ہیں۔ انہوں نے درج فہرست قبائیل کیلئے 10 فیصد تحفظات کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ر