نئی گاڑیوں کی خریداری پر آرسی کے حصول میں مشکلات

   

گاڑی مالکین کو ٹریفک پولیس کی ہراسانی کا سامنا
حیدرآباد۔5۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد ومیں نئی گاڑیوں کے خریداروں کو آرسی کے حصول میں ہونے والی دشواریوں کے سبب گاڑی مالکین کو ٹریفک پولیس کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ٹریفک پولیس کے عہدیدار 15دن کے بعد T/R نمبر کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں اور ان کا کہناہے کہ موٹر سیکل یا کار کی خریدی کے بعد ممکنہ حد تک جلد سے جلد گاڑی کے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرلیا جانا چاہئے ۔آرٹی او عہدیدار وں کا کہناہے کہ آن لائن پورٹل vahanاور sarathi پر تکنیکی خرابیوں کے سبب گاڑی مالکان کو رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی اجرائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔نئی گاڑیاں خریدنے والوں کو 2ماہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود آرسی موصول نہ ہونے کی شکایات کے نتیجہ میں جب وہ ڈیلر سے رجوع ہوتے ہیں تو انہیں کہا جارہا ہے کہ وہ آرٹی او سے رابطہ قائم کریں اور جب وہ آر ٹی او کے دفتر پہنچتے ہیں تو انہیں ڈیلر سے رجوع کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔بعض نئی گاڑیاں خریدنے والے مالکین نے الزام عائد کیا کہ ڈیلر کے پاس اضافی رقومات کی ادائیگی کی صورت میں انہیں اندرون ایک ہفتہ آرسی اور نمبر پلیٹ حاصل ہورہے ہیں۔ آٹوموبائیل یونینوں کے ذمہ داروں نے اس الزام میں سچائی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کئی ڈیلرس کے متعلق یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ وہ موٹر سیکل کے رجسٹریشن کے لئے 1000 روپئے اضافہ وصول کر رہے ہیں جبکہ کار کے رجسٹریشن کے عمل کی جلد تکمیل کے لئے 3000 روپئے تک وصول کئے جارہے ہیں۔دونوں شہروں میں آرٹی اے دفاتر سے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے خاتمہ کے اقدامات کو تیز کرنے کے علاوہ ان دفاتر میں خدمات انجام دینے والوں کے اثاثہ جات کی جانچ کے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں کیونکہ آرٹی اے سے جڑی خدمات میں تاخیر بدعنوانیوں میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔H/3