آر ٹی آئی درخواست پر 558 کروڑ خرچ کا انکشاف جبکہ حکومت نے 617 کروڑ مختص کئے تھے
حیدرآباد۔/13فروری ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی کانگریس حکومت کی جانب سے مختلف پراجکٹس کی تحقیقات کے اعلان کے بعد سرکاری محکمہ جات کے عہدیدار چوکس ہوگئے ہیں اور پراجکٹس کے حقیقی تخمینہ کو برسر عام کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سکریٹریٹ کی تعمیر پر حقیقی خرچ کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات کی ہدایت دی۔ ایسے میں محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیداروں نے آر ٹی آئی کے تحت داخل کی گئی درخواست میں سکریٹریٹ کی تعمیر پر خرچ کو کم دکھانے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس پارٹی کا دعویٰ ہے کہ سکریٹریٹ کی تعمیر پر 1200 کروڑ خرچ کئے گئے لیکن آر ٹی آئی کی درخواست پر محکمہ آر اینڈ بی نے محض 558 کروڑ کا دعویٰ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق حکومت نے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے 617 کروڑ کی منظوری دیتے ہوئے جی او جاری کیا تھا اور بعد میں سرکاری سطح پر یہ اعتراف کیا گیا کہ تخمینہ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی ہے لیکن محکمہ آر اینڈ بی کی جانب سے حقیقی خرچ کو چھپانے کی کوششیں باعث حیرت ہیں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے نئے سکریٹریٹ کے علاوہ یادگار شہیدان تلنگانہ اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر مجسمہ کی تنصیب کے بارے میں بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک رضاکارانہ تنظیم نے آر ٹی آئی کے تحت محکمہ آر اینڈ بی میں درخواست داخل کرتے ہوئے سکریٹریٹ کے مجموعی اخراجات پر سوال کیا۔ آر اینڈ بی عہدیداروں نے جواب میں بتایا کہ سابق حکومت نے جی او ایم ایس 47 کے ذریعہ 617 کروڑ کی منظوری دی تھی اور تاحال تعمیری کاموں پر 588 کروڑ خرچ کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد 2019 میں رکھا گیا تھا اور کوویڈ کے پیش نظر دو سال تک تعمیری کاموں میں رکاوٹ ہوئی اور تخمینہ میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اگرچہ 617 کروڑ مختص کئے تھے لیکن سابق حکومت نے مزید 20 تا 30 فیصد اضافی خرچ کا اعتراف کیا۔ مجموعی خرچ کے بارے میں محکمہ آر اینڈ بی کا جواب سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔1