نائیجیریا میں نماز جمعہ کے دوران شدت پسندوں کا حملہ، درجنوں افراد ہلاک

   

ابوجہ ۔ 22 اگست (ایجنسیز) وسطی نائیجیریا کی ریاست نائجر میں مسلح شدت پسندوں نے جمعے کی نماز کے دوران حملہ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کرنے کے علاوہ متعدد کو اغوا بھی کر لیا۔ اس واقعہ کی اطلاع حملے میں زندہ بچ جانے والوں اور قانون سازوں نے آج بروز ہفتہ دی۔ افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک نائیجیریا گزشتہ 17 برس سے شدت پسند گروہوں کی شورش کا سامنا کر رہا ہے۔ ان گروہوں کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اغوا ایک اہم حربہ رہا ہے، جس کی نمایاں مثال 2014 میں چیبوک سے سینکڑوں طالبات کا اغوا تھا۔ شدت پسندوں کی سرگرمیاں زیادہ تر شمال مشرقی نائیجیریا میں مرکوز رہی ہیں تاہم جمعہ کا حملہ ملک کے مغربی حصے میں ہوا، جہاں حالیہ عرصے میں مسلح گروہوں اور ساحل خطہ سے آنے والے شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بورگو کے علاقہ میں واقع دکیرا گاؤں پر حملے میں زندہ بچ جانے والے جبریل احمد نے بتایا کہ جمعہ کی معمول کی نماز ختم ہونے کے فوراً بعد لکوراوا گروپ کے سینکڑوں مسلح افراد نے بندوقوں، چاقوؤں اور بڑے چھروں کے ساتھ ہم پر حملہ کر دیا۔ احمد اور وفاقی رکن پارلیمان جعفرو محمد کے مطابق حملہ آوروں نے قریبی گاؤں بنزی کو بھی نشانہ بنایا۔ لکوراوا ایک نسبتاً پراسرار شدت پسند گروپ ہے، جسے بعض محققین نے داعش ساحل صوبہ (ISSP) سے منسلک قرار دیتے ہیں۔ یہ تنظیم برکینا فاسو، مالی اور نائجر میں سرگرم ہے۔