تاجرین تشویش میں مبتلا، نئے اسٹاک کی آمد ، دن کے اوقات میں تجارت کا امکان
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا وباء پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے اچانک نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے فیصلہ نے تجارتی اداروں اور تاجرین کیلئے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ گزشتہ سال رمضان المبارک لاک ڈاؤن کے درمیان گزرگیا تھا جس کے نتیجہ میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔ تاجروں اور بڑے تجارتی اداروں کو رمضان کی تجارت سے محرومی کے نتیجہ میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ تین ماہ سے تاجروں کو امید تھی کہ اس مرتبہ رمضان المبارک تجارت کے اعتبار سے منافع بخش ثابت ہوگا اور کسی طرح کی کوئی تحدیدات اور پابندیاں نہیں رہیں گی۔ گزشتہ ماہ تک بھی تاجروں نے رمضان کی تیاری کرلی تھی ۔ کورونا کیسیس میں کمی کو دیکھتے ہوئے تاجروں نے نیا اسٹاک منگوا لیا تھا ۔ تاجروںکو امید تھی کہ رمضان المبارک میں گزشتہ سال کے نقصانات کی تلافی ہوجائے گی لیکن کورونا کیسیس میں غیر معمولی اضافہ کے پیش نظر حکومت نے اچانک نائیٹ کرفیو نافذ کردیا ہے۔ کے سی آر حکومت کرفیو کے حق میں نہیں تھی لیکن ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد حکومت کو مجبوراً نائیٹ کرفیو کا فیصلہ کرنا پڑا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کورٹ نے شام 5 بجے سے کرفیو کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے رمضان المبارک کی عبادات اور تجارت کو پیش نظر رکھتے ہوئے رات 9 بجے کا وقت مقرر کیا ہے ۔ چارمینار کے اطراف و اکناف کے علاقے رمضان کی تجارتی سرگرمیوں کے اہم مراکز ہیں۔ رمضان کے آغاز سے قبل عوام نے خریداری شروع کردی تھی ۔ دکانداروں کے علاوہ سڑک پر کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجر نائیٹ کرفیو سے پریشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان میں زیادہ تر خریداری عشاء کے بعد کی جاتی ہے لیکن نائیٹ کرفیو سے 8 بجے کاروبار بند ہورہا ہے۔ تاجروں کو امید ہے کہ عوام دن کے اوقات میں خریداری کریں گے ۔ نامپلی ، ملے پلی ، مہدی پٹنم ، ٹولی چوکی ، شیخ پیٹ اور شہر کے دیگر علاقوں میں جہاں رمضان کی خریداری ہر سال عروج پر رہتی ہے وہاں اس مرتبہ نائیٹ کرفیو میں شام ہوتے ہی سڑکوں پر سناٹے کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ شہر کے تاجرین کو امید ہے کہ رات 9 بجے سے کرفیو کی صورت میں عوام دن کے اوقات میں خریداری کرلیں گے جس سے زیادہ نقصان کا احتمال نہیں رہے گا۔