جمعہ کے بعد کیا قدم اٹھائیں جائیں گے، حکومت کے تساہل پر ہائی کورٹ برہم
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ میں ریاست میں 30 اپریل کے بعد کورونا پر قابو پانے کیلئے حکومت کے اقدامات کے بارے میں سوال کیا۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی کی زیر قیادت بنچ نے 30 اپریل تک نائیٹ کرفیو کے بعد تحدیدات کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے غیر واضح موقف پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ 30 اپریل کو رات کا کرفیو ختم ہوجائے گا دوسری طرف کورونا کے کیسیس میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ ان حالات میں 30 اپریل کے بعد تلنگانہ حکومت کیا قدم اٹھائے گی ، اس بارے میں فوری وضاحت کی جائے ۔ عدالت نے حکومت کے آئندہ اقدامات کے بارے میں ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا۔ چیف جسٹس نے اس بار پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت لمحہ آخر میں فیصلہ کرنے کی عادی ہوچکی ہے۔ عدالت نے کورونا پر قابو پانے کے اقدامات میں ٹال مٹول کی پالیسی پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ کم از کم ایک دن قبل موقف کے اظہار سے حکومت کو کیا نقصان ہوجائے گا ۔ عدالت نے کہا کہ وہ کیسیس پر قابو پانے کے سلسلہ میں حکومت کو کوئی تجویز پیش نہیں کر رہی ہے ۔ حکومت کو موجودہ سنگین صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کرنا چاہئے ۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے تیقن دیا کہ وہ اس مسئلہ پر حکومت سے بات چیت کے بعد عدالت کو واقف کرائیں گے ۔