سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ زوجۂ زید مرحوم کو ایک تیرہ سالہ لڑکی ہے۔ ہندہ نے دوسری شادی کرلی۔ ایسی صورت میں ہندہ اپنے شوہر زید کی وفات کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرچکی۔ اب ہندہ کی تیرہ سالہ لڑکی کی پرورش کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے ؟ شرعًا لڑکی بالغہ کب کہلائیگی ؟
بالغہ ہونے کے بعد شرعًا لڑکی کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہنے کا حق کب ہوگا ؟
بینوا تؤجروا
جواب : بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں زید مرحوم کی لڑکی کی ماں (ہندہ) نے بعد ختمِ عدت دوسرے شخص سے نکاح کرلیا ہے تو اسکی پرورشی کا حق شرعًا اس کی نانی (ہندہ کی ماں) کو ہے۔ ماں کے دوسرے شوہر کے ساتھ وہ نہیں رہ سکتی۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب الحضانۃ صفحہ ۵۴۱ میں ہے: أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الأم… وان لم یکن لہ ام تستحق الحضانۃ بأن کانت غیر أھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فأم الأم أولی من کل واحدۃ وان علت۔ اور صفحہ۵۴۲ میں ہے: والأم والجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض۔
ف : لڑکی احتلام، حیض و حمل سے بالغہ ہوجاتی ہے۔ اگر یہ علامات نہ پائی جائیں تو اسکی عمر پندرہ سال ہونے پر وہ شرعًا بالغہ ہوگی۔ درمختار برحاشیہ ردالمحتار جلد ۵ کتاب الحجر والمأذون میں ہے: (و بلوغ الغلام بالاحتلام و الاحبال والانزال) والاصل ھو الانزال (والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فیھما) شیء (فمتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ، وبہ یفتی لقصر اعمار اھل زماننا)۔
ف : شرعًا لڑکی بالغہ ہونے کے بعد جب اس کو اپنے اچھے برے کی پہچان ہو تو وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہ سکتی ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۵۴۲ میں ہے : وان کانت البالغۃ بکرا فللأولیاء حق الضم وان کان لا یخاف علیہا الفساد اذا کانت حدیثۃ السن، و أما اذا دخلت فی السن و اجتمع لھا رأیہا و عفتھا فلیس للأولیاء الضم ، ولھا أن تنزل حیث أحبت لا یتخوف علیھا کذا فی المحیط۔ فقط واﷲ أعلم
زید کی زرخرید مملوکہ جائداد میں انکی زوجہ ہندہ کی وصیت
ملک نہ ہونے کیوجہ غیرمعتبر ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زرخرید مملوکہ جائداد ہے۔ انکی بیوی ہندہ نے شوہر کی جائداد میں تقسیم کے متعلق وصیت کی ہے۔ متعلقین میں دو لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں۔ اب ہندہ کی وفات کے بعد اس وصیت کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب : شرعًا کسی چیز کے مالک کا اپنی موت کے بعد کسی اور کو عطاء ً مالک بنانا وصیت کہلاتا ہے۔ البحرالرائق جلد ۹ کتاب الوصایا صفحہ ۲۱۱،۲۱۲ میں ہے : الوصیۃ … فی الشریعۃ تملیک مضاف الی ما بعد الموت علی سبیل التبرع عینا کان أو منفعۃ، ھذا ھو التعریف المذکور فی عامۃ الکتب۔ وذکر فی الایضاح أن الوصیۃ ھی ما أوجبہ الانسان فی مالہ بعد موتہ أو فی مرض موتہ۔پس بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں زید کی زرخرید مملوکہ جائداد میں انکی زوجہ ہندہ نے جو وصیت کی ہے وہ ہندہ کی ملک نہ ہونے کیوجہ غیرمعتبر ہے۔ لہذا وہ جائداد زید کی ہی ملک ہے۔ فقط واﷲ أعلم