اشیاء ضروریہ کو امیروں کے ہاتھوں میں گروی رکھنے کا مودی حکومت پر الزام
نارائن پیٹ ۔ نارائن پیٹ ضلع کلکٹریٹ کے روبرو بائیں بازو تنظیموں نے تین متنازعہ مخالف کسان بلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیا ۔ قبل ازیں امبیڈکر چوراہا سے ایک زبردست احتجاجی ریالی نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کلکٹریٹ پہونچی جہاں سی پی آئی ایم ضلعی سکریٹری مسٹر جی وینکٹ ریڈی ، سی پی آئی ( ایم ایل ) نیوڈیموکریسی ضلعی سکریٹری مسٹر بی رامو اور سی پی آئی کے ضلع سکریٹری مسٹر کنڈیا نے کہا کہ کسانوں کی محنت کی کمائی کوڑی کمپنیوں کے حوالے نہیں کیا جانا چاہئے ۔جس سے کسان دیوالیہ کے شکار ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت پالیرمنٹ میں بغیر بحث و مباحثہ کے اکثریت کی بنیاد پر کسان مخالف بل پاس کرنا جمہوریت کے ناسور ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ بی جے پی کو اپنی مذموم حرکتوں سے باز آنا چاہئے ۔ مودی حکومت اشیاء ضروریہ کو امیروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے تاکہ غریبوں کو لوٹ کردینے جیب بھرتے رہیں ۔ اس پالیسی سے فوڈ سیکوریٹی کو زبردستی خطرہ لاحق ہوگا اور کاشت کار بھوک مری کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس جارہانہ اقدامات سے مصنفین اپنے ایوارڈ واپس کردئے ہیں ۔ نریندر مودی حکومت اب بھی ہٹ دھرمی پر ڈٹی ہوئی ہے ۔ ریالی اور دھرنے میں ریتو گولی سنگھم مسٹر گوپال صفی سکریٹری ، مزدور یونین کے کاشی ناتھ پی وائی ایل کے ریاستی نائب صدر مسٹر بال رام سی ٹی یو کے نرسہا و دیگر نے رکت کی ۔