نارائن پیٹ کے 7 طلبہ یوکرین میں، بنکروں میں پناہ لینے مجبور

   

بچوں کی واپسی کیلئے رکن اسمبلی کوشاں، فکرمند اور بے چین والدین کی نمائندہ سیاست سے بات، صحافت کے ذریعہ تعاون کی اپیل

نارائن پیٹ۔ روس کے یوکرین پر حملہ کے بعد جنگ زدہ علاقہ میں پھنسے ہوئے تلنگانہ کے سینکڑوں ایم بی بی ایس طلباء میں حلقہ اسمبلی نارائن پیٹ کے 7 طلباء بھی شامل ہیں جن کے محفوظ وطن واپسی کے لئے رکن اسمبلی نارائن پیٹ مسٹر ایس راجندرریڈی مسلسل حکومت سے نمائندگی کے ذریعہ کوشش کررہے ہیں۔ 7 کے منجملہ 4 کا تعلق مستقر نارائن پیٹ سے ہے جن میں دو مسلم طلباء بھی شامل ہیں۔ جناب عبدالروف صدیقی کے فرزند عبدالمتین صدیقی اور جناب عبدالرحیم کے فرزند عبدالروف ہیں۔ جو سومی میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہیں۔ مذکورہ 7 طلباء کے والدین نے رکن اسمبلی نارائن پیٹ سے نمائندگی کرتے ہوئے جلد از جلد ان کے بچوں کو ریاستی و مرکزی حکومت سے موثر نمائندگی کے ذریعہ انہیں وطن واپس لانے کی درخواست کی۔ مسٹر ایس راجندر ریڈی نے کہا ہے کہ وہ ریاستی وزیر جن میں خاص طور پر مسٹر کے تارک راما راؤ قابل ذکر ہیں بات کررہے ہیں۔ مذکورہ 7 طلباء کے منجملہ 3 طلباء کے والدین سے نمائندہ سیاست نے فون پر رابطہ کیا۔ جناب عبدالروف اور عبدالرحیم نے بتایا کہ ان کے فرزندان، سومی میڈیکل یونیورسٹی میں چوتھے سال کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ وہ دونوں سومی شہر میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں قریب میں روزانہ بم گرائے جارہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی سے قریب بنائے گئے بنکروں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء تقریباً ختم ہو رہی ہیں۔ قریبی ملک ان کے شہر سے تقریباً تین ہزار کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ واحد وہی ملک کے راستہ سے وہ اپنے وطن واپس ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر میرسی وسنتا پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج اور ڈاکٹر کروناکر کے فرزندان بھی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان بچوں کے والدین نے نمائندہ سیاست سے بات کرتے ہوئے روپڑے اور اپنے اپنے بچوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لئے صحافت کے ذریعہ تعاون سے ممکنہ کوشش کی اپیل کی۔