ناقص ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کی جانبداری سے جمہوریت کو خطرہ

   

23 اپوزیشن پارٹیوں کا چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب ۔ 2027 ء کے انتخابات سے قبل SIR روکنے کا مطالبہ

نئی دہلی:/3 جولائی (ایجنسیز) ملک کی 23 اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کو ایک مشترکہ خط لکھ کر ملک کے انتخابی عمل پر سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج عوام کی حقیقی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔ خط پر انڈین نیشنل کانگریس، دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے)، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، ترنمول کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار)، عام آدمی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور مختلف بائیں بازو کی جماعتوں سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے دستخط کیے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) جیسی مرکزی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن کو نشانہ بنانے، منتخب حکومتوں کو گرانے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ خط میں الیکشن کمیشن کی تقرریوں پر بھی سوال اٹھائے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کمیشن میں ہونے والی تقرریاں شفاف نہیں رہیں۔ اپوزیشن نے بہار، مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابات سے قبل SIR عمل کو غیر ضروری قرار دیا۔ بہار میں SIR مشق کے حوالے سے خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی “سینیٹائزیشن’’ اور مبینہ بنگلہ دیشی دراندازوں کی موجودگی کا جواز پیش کیا، تاہم اس دعوے کی حمایت میں کوئی سرکاری اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں رکھے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں ممکن ہو وہاں دوبارہ پیپر بیلٹ ووٹنگ سسٹم متعارف کرایا جائے اور 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل دیگر ریاستوں میں SIR مشق کو روک دیا جائے۔ خط میں کہا گیا کہ جب تمام ادارے ناکام ہو جاتے ہیں تو عوام عدلیہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور اگر عدلیہ بھی مؤثر جواب نہ دے سکے تو یہ جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین صورتحال ہوگی۔
ایس آئی آر ڈیوٹی پر اساتذہ کی تعیناتی سے
سرکاری اسکولوں کی تعلیم متاثر:کانگریس
نئی دہلی، 3 جولائی (یو این آئی) دہلی پردیش کانگریس نے سرکاری اسکولوں کے مستقل اساتذہ کو ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرثانی پروگرام (ایس آئی آر) کے تحت بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کی ڈیوٹی پر تعینات کیے جانے کو لے کر دہلی حکومت پر شدید تنقید کی ہے ۔ دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اساتذہ کی انتخابی ڈیوٹی کے باعث سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل متاثر ہو رہا ہے ، جس کا براہ راست اثر غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقے کے طلبہ کی تعلیم پر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی کے بیشتر سرکاری اسکول پہلے ہی اساتذہ کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں مستقل اساتذہ کو ایس آئی آر کی ذمہ داریوں میں لگانا طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھلسوا کے ایک سرکاری اسکول میں تقریباً 1200 طلبہ زیر تعلیم ہیں لیکن وہاں کے 20 سے زائد مستقل اساتذہ کو ایس آئی آر ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا ہے ، جس کے بعد صرف 15 مہمان اساتذہ تدریسی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح گرو تیغ بہادر نگر کے ایک سرکاری اسکول سے بھی 22 اساتذہ کو اس کام پر تعینات کیا گیا ہے ۔ دیویندر یادو نے الزام لگایا کہ حکومت تعلیم کے بجائے غیر تدریسی سرگرمیوں کو ترجیح دے رہی ہے حالانکہ اس وقت دہلی میں کوئی انتخاب بھی مجوزہ نہیں ہے ۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے بیشتر طلبہ نجی ٹیوشن کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اس لیے کلاسوں میں تعطل ان کے مستقبل پر منفی اثر ڈالے گا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت اضافی معاوضے کا لالچ دے کر اساتذہ کو ایس آئی آر جیسے غیر تدریسی کاموں میں مصروف کر رہی ہے ، جس کے باعث اساتذہ جسمانی اور ذہنی طور پر تھک جاتے ہیں اور ان کی معمول کی تدریسی ذمہ داریاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو صرف تدریسی فرائض تک محدود رکھا جائے اور طلبہ کے تعلیمی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے ۔