حکومت کیخلاف مسلمانوں میں برہمی ، جواں سال قائد محمد تنویرالدین کو موقع دینے کا مطالبہ
ظہیرآباد ۔19مئی ۔ ( محمد وسیم غوری کی رپورٹ ) ریاست تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے برسر اقتدار آئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے ایسے میں ضلع سنگاریڈی حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کانگریس پارٹی میں مسلم قائدین کی نامزد عہدوں پر نمائندگی کو یکسر نظرنداز کیا جارہا ہے جبکہ حلقہ اسمبلی ظہیرآباد میں اقلیتوں کو بادشاہ گر کا موقف حاصل ہے ، اس کے باوجود کسی بھی نامزد عہدوں پر مسلم چہروں کو نامزد نہ کرنا تعصب کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس سے ظہیرآباد کے مسلمانوں میں تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا اور ریاستی حکومت سے اقلتیوں میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔ سابق ریاستی وزیر سابق ایم ایل سی جناب محمد فریدالدین مرحوم کے انتقال کے بعد اُن کے جواں سال فرزند جناب محمد تنویرالدین سابق انڈسٹریل کارپوریشن چیرمین نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے بے باکی کے ساتھ عوامی مسائل پر کامیاب نمائندگی انجام دے رہے ہیں اور انھیں تمام طبقات میں عوامی مقبولیت حاصل ہے اس کے باوجود انھیں ابھی تک کوئی بھی نامزد عہدہ نہیں دیا گیا جبکہ بی آریس دور اقتدار میں انھیں چیرمین انڈسٹریل کارپوریشن تلنگانہ نامزد کیا گیا تھا ۔ محمد تنویر نے پارلیمانی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ظہیرآباد ایم پی سریش کمار شٹکار کی کامیابی میں کلیدی رول اداکیا ایسے میں اقلیتوں کو کانگریس پارٹی میں نظر انداز کرنا لمحہ فکر ہے ۔ ظہیرآباد ہندو مسلم قومی یکجہتی کو فروغ دینے والا علاقہ ہے ، محمد تنویر الدین کو ہندو مسلم دلت طبقہ کی تائید حاصل ہیں ۔ اسی طرز پر وہ بھی اپنی خدمات کو انجام دے رہے ہیں۔ محمد تنویر الدین ظہیرآباد میں اقلیتوں کی تعلیمی ، معاشی پسماندگی کے خاتمہ ان کے نصب العین کا عزم ظاہر کرتا ہے ۔ مسلمانوں کی جانب سے محمد تنویر الدین کو نامزد عہدہ دینے کا مطالبہ کیا جارہاہے بصورت دیگر کانگریس پارٹی کو انتخابات میں اقلیتوں کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑئے گا۔