فیروز خاں کے حق میں خاموش لہر، علاقہ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا وعدہ
حیدرآباد ۔16۔نومبر (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کے انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق کسی بھی امیدوار کو مذہبی بنیادوں پر ووٹ مانگنے کا حق نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے مبصرین کا تقرر کیا ہے تاکہ انتخابی مہم میں مذہب کے استعمال پر نظر رکھی جائے لیکن شہر کی مقامی جماعت مجلس کی انتخابی مہم میں عوام کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے دیگر امیدواروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں خاص طور پر نامپلی اسمبلی حلقہ میں مجلس کو شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے اور کانگریس امیدوار فیروز خاں کے حق میں عوامی تائید کو روکنے کیلئے مذہبی ایجنڈہ اختیار کرلیا گیا۔ مجلس کے قائدین اور امیدوار حلقہ سے تعلق رکھنے والے مختلف مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے تائید کی اپیل کر رہے ہیں۔ اسی طرح کانگریسی امیدوار کے خلاف نفرت انگیز ویڈیوز سوشل میڈیا میں وائرل کرتے ہوئے فیروز خاں کی مذہبی وابستگی پر سوالیہ نشان کھڑا کیا جارہا ہے۔ مقامی افراد کا یہ احساس ہے کہ انتخابات جو خالص سیاسی بنیاد پر ہوتے ہیں، اسے مذہب کی بنیاد پر طئے کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ امیدواروں کو اپنی پارٹی کی پالیسی ، منشور اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ کی اپیل کرنی چاہئے۔ گزشتہ دو میعادوں میں مقامی رکن اسمبلی کی کارکردگی سے عوامی ناراضگی دیکھتے ہوئے قیادت نے امیدوار تبدیل کردیا۔ انتخابات میں امیدواروں اور پارٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں لیکن کسی کے مذہب کو نشانہ بنانا اور یہ تاثر پیش کرنا کہ وہ اغیار کے عقائد پر یقین رکھتا ہے ، سراسر بددیانتی ہوگی۔ کانگریس امیدوار فیروز خاں روزانہ عام جلسوں کے بجائے گھر گھر پہنچ کر عوام سے ملاقات کر رہے ہیں اور حلقہ کی پسماندگی دور کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سلم اور غریب بستیوں میں کانگریس کے حق میں تائید میں اضافہ ہوا ہے جس کی اہم وجہ سرکاری اسکیمات کے فوائد سے محرومی ہے۔ نامپلی میں صحت ، تعلیم ، امکنہ اور دیگر بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور عوام کو ایسے نمائندہ کی ضرورت ہے جو ان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرسکے۔ بظاہر نامپلی نئے شہر کا علاقہ ہے لیکن سلم علاقوں اور بلدی سہولتوں سے محروم علاقوں کی کوئی کمی نہیں۔ عوام کا یہ احساس ہے کہ غیر ضروری اس حلقہ کو سکندرآباد لوک سبھا کے تحت شامل کیا گیا جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حلقہ نئے شہر کا اور ترقی یافتہ ہے ۔ اس حلقہ کو لوک سبھا حیدرآباد کے تحت ہونا چاہئے تھا ۔ فیروز خاں نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کی جانب سے جاری کردہ 6 ضمانتوں پر عمل آوری کو یقینی بنائیں گے جس کے تحت پکوان گیس سلینڈر 500 روپئے میں سربراہ کیا جائے گا ۔
اور ہر گھر کو 200 یونٹ ماہانہ مفت سربراہ کی جائے گی۔ ضعیفوں ، بیواؤں اور معذورین کا ماہانہ وظیفہ 4000 روپئے کردیا جائے گا ۔ فیروز خاں نے کہا کہ رائے دہندوں پر انہیں بھروسہ ہے کہ وہ 30 نومبر کو رائے دہی کے موقع پر کانگریس کی تائید کرتے ہوئے نامپلی میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کریں گے۔