نامپلی میں پسماندگی کے خاتمہ اور ترقی کیلئے کانگریس کی تائید ضروری

   

ہر بچہ کے ہاتھ میں قلم اور نوٹ بک ہوگی، فیروز خاں اور عنایہ فاطمہ کی اپیل
حیدرآباد: کانگریس کے سینئر لیڈر اور نامپلی انچارج محمد فیروز خاں اور نائب صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی راشد خاں نے حلقہ اسمبلی نامپلی کے تحت بلدی ڈیویژنس کے رائے دہندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقہ میں پسماندگی کے خاتمہ اور گھر گھر میں تعلیم کو عام کرنے کیلئے کانگریس کو ووٹ دیں۔ رائے دہندوں کے نام اپنی اپیل میں کانگریس قائدین نے کہا کہ گزشتہ 50 برسوں سے علاقہ کی ترقی کو نظر انداز کردیا گیا۔ مقامی مجلسی عوامی نمائندے صرف انتخابات کے موقع پر رائے دہندوں کے درمیان دکھائی دیتے ہیں اور ان سے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کے بعد دوبارہ دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ نامپلی اسمبلی حلقہ اگرچہ نئے شہر کا حصہ ہے لیکن علاقہ میں پسماندگی پرانے شہر سے زیادہ ہے اور یہ حلقہ پرانے شہر کا حصہ بن چکا ہے ۔ علاقہ کی پسماندگی کے لئے مجلس اور برسر اقتدار ٹی آر ایس ذمہ دار ہیں۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ علاقہ میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران غریبوں کو پریشان حال چھوڑ دیا گیا تھا لیکن کانگریس پارٹی نے سلم علاقوں اور غریب بستیوں میں بڑے پیمانہ پر راحت کے کام انجام دیئے ۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے 10,000 سے زائد متاثرین کو کانگریس کی نمائندگی پر امدادی رقم حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی سینکڑوں خاندان امداد سے محروم ہیں ، جنہیں انتخابات کے بعد امداد دلائی جائے گی ۔ حلقہ اسمبلی نامپلی میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے غلط اعداد و شمار پیش کئے جسے کانگریس پارٹی نے جھوٹ ثابت کیا ۔ اسی دوران وجئے نگر کالونی ڈیویژن کی کانگریس امیدوار عنایہ فاطمہ نے رائے دہندوں سے ان کے حق میں ووٹ کے استعمال کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حلقہ کے ہر گھر میں خوشحالی اور ترقی دیکھنا چاہتی ہیں۔ ہر غریب خاندان کو بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ہر بچہ کے ہاتھ میں قلم اور نوٹ بک فراہم کرنا ان کا اہم مقصد رہے گا۔ عنایہ فاطمہ نے کہا کہ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت عوام کی خدمت کے جذبہ کے تحت پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران رائے دہندوں کی غیر معمولی تائید حاصل ہوئی ہے۔