نامکمل سروے کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی نے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا: کے ٹی آر

   

کانگریس کا بی سی ڈیکلریشن دھوکہ، مقامی اداروں کے انتخابات میں عوام کانگریس کو سبق سکھائیں گے
حیدرآباد۔/5 فروری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے لاکھوں عوام کی تفصیلات حاصل کئے بغیر کانگریس حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں کرائے گئے ذات پات کے سروے پر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں جو حوالہ دیا ہے اس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کے ٹی آر نے راہول گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں کئے گئے ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 10 سال قبل اس وقت کی بی آر ایس حکومت نے جامع خاندانی سروے کرایا تھا جس میں بی سی طبقات کی آبادی 1.85 کروڑ ریاست کی آبادی میں 51 فیصد ہونے کی نشاندہی ہوئی تھی۔ اقلیتوں میں موجود بی سی طبقات کو شمار کرنے پر بی سی طبقات کی آبادی 61 فیصد ہونے کی وضاحت ہوئی تھی۔10 سال کے بعد کانگریس حکومت کی جانب سے کرائے گئے ذات پات کے سروے میں بی سی طبقات کی آبادی بڑھنے کے بجائے گھٹ کر 1.64 کروڑ ،46 فیصد کیسے ہوگئی راہول گاندھی سے استفسار کیا۔ بی سی طبقات کی آبادی کے تعلق سے غلط مردم شماری کرنے پر تلنگانہ کے عوام بالخصوص بی سی طبقات میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس سروے رپورٹ کو کوئی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ نامکمل سروے کو راہول گاندھی نے ملک کے اعلیٰ ترین مقننہ میں بیان کرتے ہوئے جمہوریت کا مذاق اُڑایا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانگریس حکومت تلنگانہ کے مقامی اداروں میں بی سی طبقات کو وعدے کے مطابق 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ کے ٹی آر نے کانگریس پارٹی پر بی سی طبقات کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ بی سی طبقات اس ناانصافی کے خلاف خاموش تماشائی نہیں رہیں گے بلکہ کانگریس پارٹی کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ کے ٹی آر نے کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بی سی ڈیکلریشن کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے راہول گاندھی کو تلنگانہ کے بی سی طبقات سے غیر مشروط معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا۔2