نام بدلنے کی سیاست

   

Ferty9 Clinic

دِل کو بہت مجبور نہ کیجئے
صبر کا دامن چھوٹ نہ جائے
ویسے تو چیف منسٹر اترپردیش کی پسندیدہ مشغولیت تاریخی مقامات ‘ اضلاع اور ریلوے اسٹیشنوں کے وہ نام بدلنے کی ہے جو مسلمانوں سے میل کھاتے ہیں۔ انہوں نے اترپردیش میں چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے زیادہ مستقل مزاجی اور تواتر سے کوئی کام کیا ہے تو وہ شہروں اور اضلاع وغیرہ کے نام بدلنے کا کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے نام کے آگے کوئی کارنامہ درج نہیں ہے ۔ ان کے ساتھ حکومت کی کئی ناکامیاں ہیں جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انکاونٹر کے نام پر درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے ۔ اگر یہ تمام کے تمام جرائم پیشہ افراد بھی تھے تب بھی پولیس اور حکومت کو کسی کے موت کے گھاٹ اتارنے کا اختیار نہیں ہے ۔ اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہئے ۔ عدالتیں قانون کے مطابق اور ثبوتوں و شواہد کی بنیاد پر جو کوئی سزا سنائیں اس پر عمل کرنا سب کی ذمہ داری ہے لیکن اترپردیش پولیس اور حکومت نے قانون کو اپنے ہاتھ میںلیتے ہوئے اس کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ شہروں اور اضلاع وغیرہ کے نام بدلنا چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کا محبوب مشغلہ رہا ہے ۔ کورونا وباء کے دوران جب عوام کو انتہاء درجہ کی مشکلات درپیش ہوئیں اور کوئی ان کا پرسان حال تک نہیں تھا اس وقت بھی چیف منسٹر عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے نام بدلنے میں مصروف تھے ۔ اب جبکہ اترپردیش میں انتخابات کا بگل عملا بج چکا ہے اور تمام ہی سیاسی جماعتیں اس کی تیاری میں جٹ گئی ہیں تو چیف منسٹر ایسا لگتا ہے کہ نام بدلنے کی مہم میں اوور ٹائم کر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے اترپردیش کے تاریخی شہر بدایون کا نام بدل دیا اور آج انہوں نے کہا کہ اب اعظم گڑھ کا نام بھی تبدیل کیا جانا چاہئے ۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت نے حبیب گنج ریلوے اسٹیشن کا نام بدلنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ سب کچھ اترپردیش کے انتخابات کا ماحول بنانے کی کوشش ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش کا جہاں تک سوال ہے وہ صرف اور صرف متعصب بیان بازی اور سماجی منافرت کے ذریعہ دوبارہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
انتخابات میں عوام کو رجھانے اور ان کی تائید حاصل کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کو باضابطہ مہم چلانے کا اختیار ہے لیکن انتخابی مہم کے نام پر سماج کو منافرت کے دلدل میں ڈھکیلا جا رہا ہے ۔ ترقیاتی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے پیش کرنے کی بجائے قبرستان اور مندروں کی بات کی جا رہی ہے ۔ افغانستان اور طالبان کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو مہم میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان منافرت کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ سماج میں دوریوں میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ سماج کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی کوششیں کرنے کی بجائے ان میں دوریوں اور نفرت کو بڑھاوا دینے کی منظم اور سوچی سمجھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ہر گوشے سے مسلم دشمنی کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے میںکوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ ان کے روزگار چھینے جا رہے ہیں۔ ان کی تجارت کو متاثر کیا جا رہا ہے ۔ خود دوسرے طبقات کی توجہ بنیادی مسائل اور مہنگائی سے ہٹانے کیلئے یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ حکومت عوام کے سامنے اپنے پانچ سال کی معیاد کے دوران انجام دئے گئے کام پیش کرنے کے موقف میںنہیں ہے ۔ اس سوال کا بھی جواب دینے کو حکومت تیار نہیں ہے کہ کورونا کے دوران عوام کی کس حد تک مدد کی گئی ۔ کورونا کے دوران نعشیں جلانے کیلئے عوام کو لکڑی تک دستیاب نہیں تھی ۔ حکومت کی ناکامیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی مستقبل کے منصوبوںکو پیش کیا جا رہا ہے ۔
صرف مسلم ناموں سے مشابہت رکھنے والے ناموں کو بدلتے ہوئے ڈینگی ماری جا ری ہیں۔ خود کو ایک مخصوص طبقہ کے مسیحا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ منفی اور جھوٹی تشہیر کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ اس تشہیر پر کروڑ ہا روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے وزیر اعظم اور چیف منسٹروں کی شخصی تشہیر پر عوام کے ٹیکس کی رقومات کو خرچ کیا جا رہا ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش کو خاص طور پر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نام بدلنے کی سیاست منفی سوچ کی حامل ہے ۔ اس سے نہ سماج کا بھلا ہونے والا ہے اور نہ عوام کو کوئی راحت مل سکتی ہے ۔ اس سے صرف عوام کو گمراہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے مسائل حل نہیں کئے جاسکتے ۔ منفی سوچ کو بدلتے ہوئے مثبت سوچ و فکر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
دہلی میںفضائی آلودگی کا مسئلہ
ملک کے دارالحکومت دہلی میں فضائی آَلودگی میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے اور ہوا کا معیار تشویشناک حد تک متاثر ہوگیا ہے ۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے وہاں اسکولس کو بند کردیا گیا ہے اور آن لائین کلاسیس کا احیاء عمل میں لایا گیا ہے ۔ تعمیراتی سرگرمیاں بند کردی گئی ہیں اور سرکاری ملازمین کو بھی گھروں سے کام کرنے کو کہا گیا ہے ۔ شہر میں آلودگی انتہاء کو پہونچ چکی ہے اور یہاںایک ہفتے سے صورتحال مسلسل بگڑی جا رہی ہے ۔ دہلی میںآلودگی کا مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے لیکن حکومتوں میں تال میل کے فقدان اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی وجہ سے صورتحال کو بہتر کرنے میں مدد نہیں ملی ہے ۔ پڑوسی ریاستوں کی سرگرمیوں کو بھی دہلی میں آلودگی کیلئے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ گذشتہ دنوں دیوالی کے موقع پر حالانکہ آتشبازی پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اس مسئلہ پر بھی سیاست کی گئی اور محض سیاسی مخالفت کی وجہ سے آتشبازی کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ اس کا نتیجہ سارے دارالحکومت کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ کجریوال حکومت کی جانب سے جو اقدامات آلودگی پر قابو پانے کئے جا رہے ہیں وہ عارضی نوعیت کے ہی کہے جاسکتے ہیں اور اس سے مسئلہ کا کوئی مستقل حل دریافت نہیں ہو پا رہا ہے ۔ مرکزی حکومت کو اس معاملے میں سیاسی سوچ سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کو باہمی تال میل کے ذریعہ اس مسئلہ کا کوئی مستقل حل دریافت کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کی صحت پر ہونے والے منفی اثرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ادنی سیاسی مفادات کی پرواہ نہیں کی جانی چاہئے ۔