غضب کیا تیرے وعدہ پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
یوکرین ان دنوں روسی جارحیت کے نشانہ پر ہے ۔ روس کی جانب سے لگاتار حملے کئے جا رہے ہیں اور اہم تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کی جا رہی ہے ۔ راکٹ اور شیلس بھی داغے جا رہے ہیں۔ رہائشی علاقے اور عام شہری بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ اموات کی تعداد کے تعلق سے ابھی کچھ دعوے سے نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اب تک سینکڑوں سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ جانی نقصان دونوں ہی جانب ہو رہا ہے تاہم کوئی بھی فریق اس معاملے میں آزادانہ طور پر توثیق کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ صورتحال مسلسل ابتر ہوتی جا رہی ہے اور لوگ اپنی جان بچانے کی فکر میں ہیں تو کچھ ایسے بھی ہیں جو یوکرین کے دفاع کیلئے لڑنا چاہتے ہیں۔ روس کی جانب سے یوکرین سے مشروط بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ ابتداء میں روسی پیشکش کو مسترد کرنے کے بعد اب یوکرین نے بھی بات چیت کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے اور جوا طلاعات ہیں ان کے مطابق بیلاروس میں دونوں ممالک کے مابین پہلے دور کی ابتدائی بات چیت بھی ہوچکی ہے ۔بات چیت میں کس حد تک اور کس طرح کی پیشرفت ہوگی یا بات چیت ناکام ہوجائے گی اس تعلق سے ابھی سے کچھ بھی کہا نہیں جاسکتا ۔ محض قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم یوکرین کے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ ناٹو ممالک نے یوکرین کو مشکل اور بحران کے اس وقت میں مایوس کردیا ہے ۔ یوکرین کا احساس ہے کہ ناٹو ممالک نے اسے مشکل وقت میں مدد کرنے اور روس پر اثر انداز ہونے کا تیقن دیا تھا ۔ خود ناٹو کی رکنیت دینے کے تعلق سے بھی ان ممالک نے یوکرین کی امیدوں کو پورا نہیں کیا ہے ۔ ناٹو ممالک ابھی تک بھی صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہیں ۔ کچھ ممالک کی جانب سے یوکرین کی مدد کرنے کیلئے اعلانات تو ضرور کئے گئے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان ممالک کی مدد سے یوکرین کو کس حد تک راحت مل سکتی ہے اور کوئی مل بھی سکتی ہے یا نہیں۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے تو اس کے رول سے مجموعی طور پر مایوسی ہی ہوئی ہے کیونکہ اس نے بھی صرف زبانی جمع خرچ کیا ہے ۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے یوروپی یونین سے اپیل کی ہے کہ ان کے ملک کو فوری طور پر ناٹو کی رکنیت دی جائے کیونکہ ان کا ملک مشکل اور بحران کے اس وقت میں تمام دوسرے یوروپی اقوام اور عوام کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ۔ یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس کی فوجی کارروائی کے پانچ دن پورے ہوچکے ہیں لیکن ناٹو ممالک اور امریکہ کا رد عمل توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔ بحران اور مشکل وقت میں یوروپ کے اتحاد کو مستحکم کرنے اور یوروپی ملک کی مدد کرنے میں یوروپی یونین پس و پیش کا شکار ہے اور وہ مصلحتوں کا شکار ہو کر یوکرین کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ رہے ہیں۔ زیلنسکی کا خیال ہے کہ اگر یوکرین کو یوروپی یونین کی جانب سے ناٹو کی رکنیت دی جاتی ہے تو اس سے روس کی جارحیت پر اثر ہوگا اور مزید فوجی کارروائیوں کے تعلق سے صدر پوٹن اپنے عزائم پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔ جہاں تک پوٹن کا سوال ہے انہوں نے اپنے حملوں میں مزید شدت پیدا کرنے کا اعلان کردیا ہے اور نیوکلئیر افواج کو بھی انہوںنے تیار رہنے کا حکم جاری کردیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں کہا جاسکتا ہے کہ صورتحال انتہائی دھماکو ہوتی جا رہی ہے ۔ عوام کیلئے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ جو بیرونی ممالک کے باشندے یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں ان کی واپسی مشکل ہوگئی ہے ۔ ان کی پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔ ان کیلئے زندہ رہنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ وہ بنکروں میں پناہ لے رہے ہیں۔ انہیں غذا اور پانی جیسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہو رہی ہیں۔
یوروپی یونین کو ساری صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ روس پر اثر انداز ہونا چاہئے کہ وہ یوکرین کے خلاف اپنے جارحانہ عزائم اور تیور میں لچک اور نرمی پیدا کرے ۔ جب تک بات چیت سے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش ہیں کی جاتی اس وقت تک جنگ سے بھی کوئی نتیجہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوسکتا ۔ بحران کی جو کچھ بھی وجوہات ہوں انہیں بات چیت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ ناٹو ممالک فوجی کارروائیوں کا حصہ بنے بغیر بھی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیںفوجی کارروائیوں اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے روس پر اثر انداز ہونے کیلئے آگے آنا چاہئے ۔
