زندگی ہے وہ کشمکش جس میں
خود سے ہارے تو سب سے ہار گئے
ملک کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ۔ اس میں 13 عام شہری اور ایک فوجی جوان کی موت واقع ہوگئی ۔ فوج نے تخریب کاروں کے شبہ میںعام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ اس کے بعد گاوں والے بھی تشدد پر اتر آئے اور انہوںنے سکیوریٹی فورسیس کی گاڑیوںکو نذر آتش کردیا اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے ۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ بے قصور اور معصوم ہندوستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ غریب اپنے کام کاج سے واپس ہو رہے تھے کہ انہیں نشانہ بنادیا گیا ۔ ملک کے ہر گوشے کی جانب سے اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ خود مرکزی حکومت نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ آج پارلیمنٹ کے دونوںایوانوںمیں وزیر داخلہ امیت شاہ نے بیان دیتے ہوئے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور متوفی افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے ۔ تاہم مرکزی حکومت کا یہ بیان اور محض اظہار تعزیت کافی نہیں ہوسکتا ۔ مرکزی حکومت کو ایسے واقعات کا نوٹ لیتے ہوئے ایسی حکمت عملی اور پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس سے مستقبل میںایسے واقعات کا اعادہ نہ ہونے پائے ۔ جو انسانی جانی تلف ہوئی ہیں وہ بے قصور ورکرس کی ہیں اور اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی پر عائد کی جانی چاہئے ۔ ایک درجن سے زائد گھر اجڑ گئے ہیں۔ اس کا ذمہ دار کوئی نہ کوئی تو ہونا چاہئے ۔ مرکزی حکومت نے محض خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کا اعلان تو کردیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آخر کس نوعیت کی کارروائی کی جائے گی اور کس کے خلاف کی جائے گی ۔ جو ایف آئی آر اس واقعہ کی درج کی گئی ہے اس میں فوجی یونٹ کا نام شامل کیا گیا ہے لیکن اس کا ذمہ دار کون ہوگا اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی ہے ۔ جہاں تک اس کارروائی میںشامل فوجی اہلکاروں کا سوال ہے وہ انہیں ملنے والے خصوصی اختیارات کے قانون کے تحت کسی طرح کی کارروائی سے محفوظ ہیں۔ مرکز نے بھی محض زبانی افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن کسی ٹھوس قدم کا اعلان کرنے سے گریز ہی کیا ہے ۔ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے اور اس سے ملک و سماج کا کوئی طبقہ مطمئن نظر نہیں آتا ۔
آج جس وقت امیت شاہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں حکومت کے افسوس کا اظہار کر رہے تھے اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی اس پر عدم طمانیت کا اظہار کیا اور کہا کہ محض حکومت کے ایک بیان سے اطمینان نہیںہوسکتا اور اس مسئلہ پر ایوان میں مباحث ہونے چاہئیں۔ تاہم جہاں تک نریندرمودی حکومت کاسوال ہے اس نے تو انتہائی اہم ترین مسائل پر بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوںمیں مباحث کی ذمہ داری سے ہمیشہ فرار ہی اختیار کیا ہے ۔ ایوان میں مباحث کی روایت کو عملا ختم کردیا گیا ہے ۔ اہم ترین مسائل اور قوانین پر بھی اڈھاک طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے جس سے خود پارلیمنٹ کی اہمیت پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ حکومت کو اس مسئلہ پر ایوان میں مباحث کروانے چاہئے تھے ۔ اپوزیشن کی تشویش کی سماعت ہونی چاہئے تھی ۔ وہ کچھ تجاویز بھی صورتحال کے تعلق سے پیش کرتے ۔ اس سے مستقبل میں اس طرح کے اوقعات کے اعادہ کو روکنے میں مدد مل سکتی تھی لیکن حکومت اب بھی اکثریت کے زعم میں مبتلا ہے اور وہ کسی کو بھی خاطر میںلانے تیار نہیںہے ۔ بے بس و بے گناہ ہندوستانی شہریوں نے زندگی ہار دی اور حکومت اس پر بھی ایوان میں کسی کو اظہار خیال کا موقع دینے تیار نہیں ہے ۔ یہ طریقہ کار پارلیمانی جمہوریت کی بنیادوںکو کھوکھلا کردینے والا ہے ۔ حکومت کو اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اہم مسائل پر ایوان میں مباحث ہونے چاہئیں۔ ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت کی یہی روش ہمیشہ سے رہی ہے اور اس کو برقرار رکھا جانا چاہئے ۔
جہاں تک مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے والے قانون کا سوال ہے اس پر بھی خود شمال مشرقی ریاستوںمیں اتفاق رائے نہیںہے ۔ ناگالینڈ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور خود یہاں کے چیف منسٹر نے بھی اس قانون سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ آسام میں بھی یہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس قانون سے دستبرداری اختیار کی جائے ۔مرکزی حکومت کو اس طرح کے مطالبات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ فیصلہ حکومت جو کچھ بھی کرے وہ تمام تجاویز اور آراء کو ذہن میںرکھتے ہوئے کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات کا مستقبل میں اعادہ روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جانے چاہئیںاور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ نہتے اور بے قصور شہریوں کی جانیں اس طرح تلف ہونے نہ پائیں۔
