ناگرجنا ساگر ڈیم پر سی آر پی ایف متعین

   

حیدرآباد 2 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین ناگرجنا ساگر ڈیم پر کشیدگی کو دیکھتے ہوئے وہاں سی آر پی ایف کے دستوں کو متعین کردیا گیا ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے دونوں ریاستوں کے مابین دریائے کرشنا پر بنے ڈیم سے متعلق کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مداخلت کے بعد یہاں سی آر پی ایف کو متعین کیا گیا ہے ۔ مرکزی معتمد داخلہ اجئے کمار بھلہ نے کل دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور ڈائرکٹرس جنرل پولیس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا اور دونوں ہی ریاستوں نے نے معتمد داخلہ کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ ڈیم سے پانی کے اخراج اور صورتحال کو 28 نومبر سے قبل کی صورتحال پر برقرار رکھا جائے ۔ اس ڈیم کا کنٹرول کرشنا ریور واٹر مینجمنٹ بورڈ کے سپرد کردیا جائے اور سی آر پی ایف کو ڈیم پر متعین کردیا جائے ۔ چیف سکریٹری تلنگانہ شانتی کماری نے کہا کہ 29 نومبر کی رات آندھرا پردیش کے 500 مسلح اہلکار ڈیم پہونچے ‘ سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہونچایا اور 5000 کیوسک پانی کا اخراج عمل میں لایا ۔ انہوں نے مرکزی معتمد داخلہ کو بتایا کہ آندھرا پردیش پولیس کے اقدام سے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جبکہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کا انعقاد ہو رہا تھا ۔ انہوں نے شکایت کی کہ آندھرا پردیش نے ایسی حرکت دوسری مرتبہ کی ہے۔ اس دوران مرکزی وزارت جل شکتی نے دونوں ریاستوں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے ۔