ناگپور تشدد:بنگلہ دیشی لنک کا انکشاف، مالیگاؤں کا سرغنہ بے نقاب

   

کیس کا سرغنہ فہیم خان ، تحقیقات میں انکشاف۔ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا : چیف منسٹر فڈنویس
ناگپور: ناگپور میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات کے دوران ایک بنگلہ دیشی لنک سامنے آیا ہے ، جس نے پولیس کو اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین پر مجبور کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی اشتعال انگیزی کے پیچھے کوئی بڑا منصوبہ کارفرما تھا۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اس کیس کا ماسٹر مائنڈ فہیم خان ہے ، جو مینارٹیز ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ ہے اور ناسک ضلع کے مالیگاؤں سے تعلق رکھتا ہے ۔ ناگپور میں حالات معمول پر آنے کے باوجود نماز جمعہ اور جماعت کے دوران سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ، جبکہ پولیس مسلسل چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہے ۔مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، جو ریاست کے وزیر داخلہ بھی ہیں، نے ایک مراٹھی نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ کچھ اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹس بنگالی زبان میں تھیں، جو بنگلہ دیش میں بولی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پہلو کی بھی جانچ کی جائے گی کہ آیا کوئی بڑا منصوبہ اس کے پیچھے کارفرما تھا۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ناگپور میں ہونے والے فسادات کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق مالیگاؤں سے ہے ، اور اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ارکان کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس پر حملوں کو برداشت کیا گیا تو ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو جائے گی، اس لیے ان عناصر کو سبق سکھایا جائے گا۔فڑنویس نے اس واقعے کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ دوپہر کے بعد سوشل میڈیا کی نگرانی میں کوتاہی رہی، جس کی وجہ سے اشتعال انگیز پوسٹس پھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کے پاس سوشل میڈیا کی نگرانی کرنے کی صلاحیت موجود ہے ، لیکن اس کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کیلئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں تشدد سڑکوں پر کم اور سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ پھیل رہا ہے ، تاہم پولیس نے جلد از جلد ردعمل دیا۔