ناگپور کے بعض علاقوں سے کرفیو برخواست‘‘ فہیم خاں کیخلاف غداری کا مقدمہ

   

ناگپور : اورنگ زیب کی قبر کو ہٹانے کے مطالبے پر تشدد پھوٹ پڑنے کے چند دن بعد ناگپور کے حکام نے جمعرات کو نندنوان اور کپل نگر تھانوں میں کرفیو ہٹا دیا۔ناگپور کے پولس کمشنر رویندر سنگھل نے بتایا کہ پوری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد، نندن وان اور کپل نگر پولیس اسٹیشنوں کے تحت نافذ کرفیو کو آج دوپہر 2 بجے سے پوری طرح سے ہٹا دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب تک، ناگپور تشدد کیس کے سلسلے میں 91 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں 11 نابالغ شامل ہیں۔ لکڑ گنج، پنچ پاؤلی، شانتی نگر، شکردرہ اور امام واڑہ کے علاقوں میں کرفیو کی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ سنگھل نے مزید کہا کہ ضروری کاموں اور ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے دوپہر 2 بجے سے شام 4 بجے تک نرمی کی مدت دی گئی ہے۔تاہم کوتوالی، تحصیل اور گنیش پیٹھ تھانوں کے تحت آنے والے تمام علاقوں میں کرفیو مکمل طور پر نافذ رہے گا۔ پولیس کی کہنا ہے کہ فہیم خان کو کلیدی ملزم قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے پس منظر کی تحقیقات جاری ہیں۔ کمشنر نے تصدیق کی کہ ناگپور میں اس وقت صورتحال پرامن ہے اور جلد ہی مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ اسی دوران اقلیتی ڈیموکریٹک پارٹی (ایم ڈی پی) کے رہنما فہیم شمیم خان، جنہیں ناگپور تشدد کیس میں اہم ملزم سمجھا جاتا ہے پر بھی سائبر کرائم کیس میں فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔ فہیم خاں کی گرفتاری کے بعد سائبر ٹیم نے ان کے خلاف غداری کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس ایف آئی آر میں کل چھ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔