ملزم اور سابق بی جے پی ترجمان نوین جندل کو سپریم کورٹ سے راحت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیغمبر اسلام ؐ کے خلاف اہانت آمیز ریمارکس کیس میں ملزم اور سابق بی جے پی لیڈر نوین جندل کو بڑی راحت دی گئی ہے۔ عدالت نے جندل کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کو دہلی پولیس کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے اپنے حکم میں نوین جندل کو دہلی پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک عبوری تحفظ بھی دیا۔دراصل نوین جندل نے اپنے خلاف درج مقدمات کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔جس کی سماعت کے بعد عدالت نے جندل کو دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دینے کی اجازت دی اور کہا کہ آئندہ تمام ایف آئی آر بھی تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کو منتقل کر دیئے جائیں۔نوپور شرماکیس میں بھی مقدمات دہلی پولیس کو منتقل کر دیئے گئے۔ اس سے قبل عدالت نے بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما کے معاملہ میں بھی ایسا ہی حکم جاری کیا تھا۔عدالت نے ان کیخلاف تمام ریاستوں میں درج مقدمات کو دہلی پولیس کے انٹیلی جنس فیوڑن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔