اسرائیل میں بنجامن نتن یاہو چھٹی مرتبہ وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لے چکے ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عہد کا بھی اظہار کردیا ہے ۔ نتن یاہو اب تک پانچ مرتبہ اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں تاہم ان کی حکومتیں تضادات کی وجہ سے زوال کا شکار ہتی رہی ہیں لیکن نتن یاہو اقتدار پر دوبارہ واپسی کرنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ نتن یاہو خود کٹرپسند کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے خیالات فلسطینی کاز کو نقصان پہونچانے کے مترادف ہیں اور وہ ہمیشہ ہی یہودی نوآبادیات کو مستحکم کرنے اور ان میں توسیع کرنے کے قائل رہے ہیں اور اس کیلئے اقدامات بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ اس بار نتن یاہو کی اقتدار پر واپسی اہمیت کی حامل ہے اور یہ فلسطینی کاز کیلئے نقصان کا باعث بھی کہی جاسکتا ہے ۔ نتن یاہو نے اب تک اپنی لیوکڈ پارٹی کے سیاسی اتحاد نسبتا اعتدال پسند اور کم شدت کے نظریات رکھنے والی جماعتوں کے رہے تھے ۔ اس کے باوجود نتن یاہو اپنے نظریات کو اتحادی جماعتوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار ان کا جو اتحاد ہوا ہے وہ چھ جماعتوں پر مشتمل ہے ۔ اس کی زیادہ اہمیت اس لئے ہے کہ اس میں تقریبا تمام جماعتیں انتہائی شدت پسند نظریات رکھتی ہیں اور وہ فسلطینی عوام اور ان کے کاز کو کچلنے کے عزائم کا اظہار بھی کرچکی ہیں۔ اس چھ جماعتی اتحاد میں پانچ جماعتیں ایسی ہیں جو انتہائی شدت پسند یہودی نظریات رکھتی ہیں۔ وہ بنیاد پرستی کی قائل ہیں اور ان کے عزائم فلسطینی کاز کیلئے نقصان کا باعث کہے جاسکتے ہیں۔ ان جماعتوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے نظریات اور پروگرامس کے سامنے نتن یاہو کی لیوکڈ پارٹی اعتدال پسند دکھائی دیتی ہے جبکہ یہ پارٹی بھی شدت پسندی کے نظریات کی ہی حامل ہے ۔ ماضی میں کئی مواقع ایسے رہے جہاں لیوکڈ پارٹی کی شدت پسندی کی وجہ سے سارے خطہ میں حالات متاثر ہوگئے تھے اور سارے خطہ کا امن درہم برہم ہوگیا تھا ۔ فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کی مہم پوری شدت کے ساتھ چلائی گئی تھی ۔
لیوکڈ پارٹی کے اپنے پروگرامس اور منصوبے ایسے ہیں جن سے فلسطینیوں کا عرصہ حیات تنگ ہوتا ہے ۔ ان پر بے طرح مشکلات کا پہاڑ توڑا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان کے علاقوں کی ناکہ بندی کرکے انہیں محصور کردیا جاتا ہے ۔ مسلسل یہودی نوآبادیات کو یقینی بنانے کے منصوبوں پر عمل کیا جاتا ہے ۔ ان کے ذریعہ فلسطینی عوام سے ان کی اپنی سرزمین کھینچنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ ان کو بنیادی سہولیات سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ انہیںادویات تک بھی پہونچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ ان کو گولیوں کا نشانہ بنانے سے بھی فلسطینی افواج گریز نہیں کرتیں۔ اسرائیلی افواج اپنے دفاع کا جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے کسی بھی فلسطینی کو کہیں بھی گولی مار سکتی ہیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ جہاں تک امریکہ یا اسرائیل کے دوسرے حواری ممالک کا سوال ہے تو انہیں بتدریج فلسطینی کاز کو تباہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ اس میں عالم اسلام کے دغا بازوں اور مفاد پرستوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جارح اسرائیل کی حیثیت کو تسلیم کروانے میں اہم رول ادا کیا گیا ۔ اسرائیل کے جھوٹے اور بے بنیاد دعووں کو قبول کرتے ہوئے فلسطینیوں کے جائز حقوق تک بھی تلف کردئے گئے ۔ فلسطینیوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے میں جہاںاسرائیل اصل ذمہ دار ہے وہیں امریکہ اور اس کے دوسرے حواری ممالک بھی ہیں جو فلسطینی کاز کو تباہ کرنے کا تہئیہ کئے ہوئے ہیں۔
اب نتن یاہو کا جن جماعتوں کا اتحاد برسر اقتدار آیا ہے وہ فلسطین اور فلسطینی عوام کیلئے اور بھی خطرناک کہا جاسکتا ہے ۔ یہ اتحاد انتہائی شدت پسندانہ خیالات کی حامل جماعتوں کا ہے اور اس کے ذریعہ فلسطینیوں کو مزید مشکلات کا شکار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی ۔ اقتدار میں شامل ہر جماعت ایک سے بڑھ کر ایک شدت پسندانہ نظریات رکھتی ہے ۔ ایسے میں امریکہ اور دوسرے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کی صورتحال پر نظر رکھیں۔ کسی کو بھی جارحانہ تیور اختیار کرنے کا موقع نہ دیا جائے اور فلسطین اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جائے ۔ یہی انصاف کا تقاضہ ہے ۔
کرناٹک ‘ کرپشن اور کنٹراکٹرس
کرناٹک میں کرپشن کی شکایات انتہائی عام ہوگئی ہیں۔ یہاں پر کنٹراکٹرس سے کمیشن حاصل کرکے کاموںکو آگے بڑھانے کی روش عام ہوگئی ہے ۔ ماضی میں ایک کنٹراکٹر نے ریاستی وزیر پر ہی کمیشن اور کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے خود کشی کرلی تھی ۔ اس وقت ساری ریاست میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ۔ وزیر موصوف کو کابینہ سے علیحدہ کردیا گیا تھا ۔ کنٹراکٹر کی جانب سے وزیر کے خلاف راست الزامات عائد کئے جانے کے باوجود تحقیقات میں انہیں کلین چٹ دیدی گئی اور اب ان کی کابینہ میں دوبارہ واپسی بھی تقریبا یقینی ہوگئی ہے ۔ اسی طرح کے ایک واقعہ میں ایک اور کنٹراکٹر نے ریاست میں بلز کی عدم اجرائی کا الزام عائد کرتے ہوئے خود کشی کرلی ہے ۔ حالانکہ اس میں کسی وزیر یا عہدیدار کے خلاف راست کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں سرکاری کاموں کے بلز کی اجرائی میں جب تک کمیشن ادا نہ کیا جائے کوئی پیشرفت نہیں کرتے ۔ ریاست میں کرپشن کے عروج کی وجہ سے کنٹراکٹرس کاموں کی تکمیل سے قاصر ہیں۔ یا کام مکمل ہوچکے ہیں تو معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور کچھ تو انتہائی مایوسی کے عالم میں انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کو اس کا نوٹ لیتے ہوئے کرپشن کے خاتمہ کے اقدام کرنے چاہئیں۔
