چیف منسٹر بہار اور جنتادل یونائیٹیڈ کے صدر نتیش کمار ایسا لگتا ہے کہ اب بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد کو یقینی بنانے کے مشن کا عملا آغاز کرچکے ہیں۔ حالانکہ وہ بہار کے ایک سینئر ترین لیڈر ہیں لیکن وہ قومی سیاست کا بھی خاصا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزارت ریلوے میں کام کیا ہے اور پارٹی کی قومی صدارت سنبھالتے ہوئے وہ قومی سیاست کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ جس وقت نتیش کمار بی جے پی کے ساتھ مل کر این ڈی اے حکومت کی قیادت کر رہے تھے اس وقت وہ گھٹن کا شکار ہو رہے تھے اور انہیں بی جے پی کی جانب سے کسی بھی وقت اقتدار سے بیدخلی کا خطرہ لگا ہوا تھا ۔ خاص طور پر جب مہاراشٹرا میں حکومت کا تختہ الٹا گیا اور شیوسینا کے باغی گروپ کی تائیدکرتے ہوئے جس طرح سے بی جے پی نے حکومت میںحصہ داری حاصل کرلی اس کے بعدیہ تاثر عام ہوگیا تھا کہ بہار میں بھی یہی کھیل کسی بھی وقت کھیلا جاسکتا ہے ۔ ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی ایسا کھیل کھیلا گیا ہے جہاں اپوزیشن سے اتحاد کرتے ہوئے پھر اسی جماعت کو کمزور کرنے میں خود بی جے پی نے کوئی کسر باقی نہیںر کھی ۔ اس کی مثال تلگودیشم پارٹی سے بھی لی جاسکتی ہے ۔ تلگودیشم پارٹی نے بی جے پی سے ماضی میں اتحاد کیا تھا لیکن بی جے پی ہی نے تلگودیشم کو کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیںرکھی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی راست یا بالواسطہ سبھی طرح سے مدد کی گئی تھی ۔ نتیش کمار نے قبل از وقت صورتحال کو سمجھ لیا تھا اورشائد یہی وجہ تھی کہ انہوںنے راشٹریہ جنتادل کے لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے ملاقات کرتے ہوئے پرانے تعلقات کا احیاء کرلیا اور دوبارہ بہار کے چیف منسٹر بن گئے ۔ نتیش کمار شائد اب بی جے پی کو کوئی بھی موقع دینا نہیںچاہتے اور اسی لئے انہوں نے مشن اپوزیشن کا آغاز کیا ہے ۔ نتیش کمار کے اس سفر پر نکلنے سے قبل تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ و چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے پٹنہ پہونچ کر نتیش کمار سے ملاقات کی تھی ۔ چندر شیکھر راؤ نے لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے بھی ملاقاتیں کی تھیں اور پھر نتیش کمار نے اپوزیشن سے ملاقاتیں شروع کردیں۔
نتیش کمار کی ان ملاقاتوں میں سب سے اہم بات راہول گاندھی سے ملاقات کی ہے ۔ راہول گاندھی کانگریس کے ذمہ دار لیڈر ہیں ۔ وہ بھارت جوڑو یاترا شروع کرچکے ہیںاور بی جے پی کو نشانہ بنانے میں ملک کے تمام سیاسی قائدین میں سب سے آگے ہیں۔ راہول گاندھی سے نتیش کمار کی ملاقات اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ نتیش کمار نے بعد میں ان قائدین سے ملاقاتیں کی ہیں جو راہول گاندھی سے کسی بھی حال میں اتحاد یا سمجھوتہ کرنے کو تیار نظر نہیں آتے ۔ ان میں اروند کجریوال اور چندر شیکھر راؤ اہمیت کے حامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کانگریس سے اتحاد کے حق میں کبھی دکھائی نہیں دئے ہیں لیکن چندر شیکھر راؤ کے دورہ پٹنہ کے بعد نتیش کمار نے جس طرح سے قومی قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بعد وہ جن قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں وہ اہمیت کی حامل ہیں۔ کے سی آر اور کجریوال کے علاوہ نتیش کمار نے این سی پی کے سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کی ہے ۔ شرد پوار ہمیشہ کانگریس کو ساتھ رکھتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کی وکالت کر تے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش کمار ممتابنرجی ‘ اکھیلیش یادو اور دوسری مخالف کانگریس پارٹیوں سے کس طرح سے بات چیت کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ ان جماعتوں کو کسی ایسے اتحاد میںشامل کرنے میں کامیاب ہونگے جس میں کانگریس بھی شامل ہو ؟۔ ابھی تک کسی اتحاد کی سمت تاہم کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ صرف ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔
ابھی یہ کہا نہیں جاسکتا کہ نتیش کمار نے جو ملاقاتیں کی ہیں وہ واقعی کسی اپوزیشن اتحاد کیلئے ہی ہیں اور اگر ہیں بھی تو ان میں کس جماعت کا رد عمل کیا رہا ہے اور نتیش کمار اس میں کس حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نتیش کمار کئی ایسی جماعتوں کیلئے قابل قبول ہوسکتے ہیں جو بی جے پی سے مقابلہ کرنے متحد ہونا چاہتی ہیں اور ایسے میں کانگریس کے بغیر کسی اتحاد کے حق میںنتیش کمار ‘ شرد پوار یا تیجسوی یادو دکھائی نہیں دیتے ۔ نتیش کمار کی ملاقاتوں کے نتائج کیا رہیں گے یہ تو آئندہ وقت ہی بتاسکتا ہے لیکن ایک پہل اپوزیشن اتحاد کیلئے ہوئی ضرور ہے ۔ تمام اپوزیشن جماعتیں جو بی جے پی سے مقابلہ کیلئے واقعی سنجیدہ ہیں انہیں اس میں سرگرم رول نبھانے کی ضرورت ہے۔