نریندر مودی اور کے سی آر کو عوام کی زندگی کے تحفظ سے دلچسپی نہیں

   

کورونا کی موجودہ صورتحال کیلئے حکومتیں ذمہ دار، مجالس مقامی انتخابات ملتوی کرنے جیون ریڈی کا مطالبہ
حیدرآباد: کانگریس رکن قانون ساز کونسل جیون ریڈی نے الزام عائد کیا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو عوام کی زندگی سے زیادہ سیاسی فائدہ کی فکر لاحق ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں کورونا کے کیسیس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی لاپرواہی کے نتیجہ میں کورونا کیسیس قابو سے باہر ہوچکے ہیں ۔ مہاراشٹرا میں فروری میں دوسری لہر کے آغاز کے بعد ملک میں چوکسی اختیار کی جاتی تو آج صورتحال سنگین نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت عوام کا بنیادی حق اور حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن موجودہ حالات میں حکومت دونوں شعبہ جات میں ناکام ہوچکی ہے ۔ دواخانوں میں آکسیجن اور وینٹی لیٹرس کی کمی کے نتیجہ میں اموات واقع ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست نے پہلی لہر کے تجربات سے سبق حاصل نہیں کیا ہے ۔ دوسری لہر سے نمٹنے کے لئے کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریمیڈی سیور انجکشن کی قلت کی اہم وجہ تیار کرنے والی کمپنی کو اکسپورٹ کی اجازت دینا ہے۔ ملک میں 18 سال کے نوجوانوں کو ٹیکہ اندازی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن ریاستوں کے پاس ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں عوام کو سرکاری خرچ پر ویکسین کی مفت فراہمی کا مطالبہ کیا۔ جیون ریڈی نے کہا کہ ناگرجنا ساگر میں جلسہ عام کے نتیجہ میں کیسیس میں اضافہ کے اندیشہ کے باوجود چیف منسٹر نے جلسہ عام میں شرکت کی جس کے بعد کیسیس کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے۔ جیون ریڈی نے مجالس مقامی کے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آئندہ دو ماہ تک التواء سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ کے سی آر حکومت کو سیاسی فائدہ کی فکر ہے ، لہذا کورونا وباء کے دوران انتخابات منعقد کئے جارہے ہیں۔ جیون ریڈی نے کہا کہ شادیوں کا سلسلہ شروع ہورہا ہے ایسے میں حکومت کو دن اوقات میں تقاریب کے لئے تحدیدات کے ساتھ اجازت دینی چاہئے ۔