نریندر مودی اپنے خطاب سے کشمیریوں کو متاثر نہ کرسکے

   

بی جے پی قیادت کشمیریوں کا دل نہیں، زمین جیتنا جاہتی ہے، کشمیریوں کا الزام
نئی دہلی۔9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک اسے وقت جب وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ریاست کے عوام سے الزام عائد کیا ہے کہ جس طرح یہ اقدام کیا گیا ہے وہ بالکل غیر جمہوری ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت صرف زمین جیتنا چاہتی ہے کشمیریوں کے دل نہیں۔ جموں و کشمیر کے خطہ سے لے کر پرفیشنلس تک نے خصوصی موقف چھننے کے اقدامات پر اندیشوں کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے ذریعہ ماحولیاتی اعتبار سے حساس ریاست کا انفراسٹرکچر کے لیے غلط استعمال ہوگا۔ ایک صحافی جن کا تعلق کشمیر سے ہے، اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس آرٹیکل کی منسوخی کے ساتھ برے پراجکٹس میں کارپوریٹ شعبہ کی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔ اس سے بہترین ماحول کو نقصان پہنچے گا۔ ایک دیگر فزیوتھیراپسٹ نے کہا کہ یہ لوگ صرف کشمیر کی زمین چھیننا چاہتے ہیں، کشمیریوں کا دل جیتنا نہیں چاہتے۔ اگر انہیں ہمارا اعتماد جیتنا ہے تو انہیں چاہئے کہ ہمیں اعتماد میں لیتے اور ہمیں اس اقدامات کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں بات چیت کرتے اور ہمیں محفوظ محسوس کراتے۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خاندان محصور ہے۔ اگرکوئی ایمرجنسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو انہیں ایمولنس تک بھی رسائی حاصل نہیں۔ دہلی میں مقیم ایک کشمیری صحافی نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی کی تقریر میں کوئی ٹھوس بات نہیں تھی۔ انہوں نے صرف لفاظی سے کام لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے منسوخی کو ترقی سے جوڑنا گمراہ کن سونچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے کشمیری شال، سیب اور جڑی بوٹیوں کو فروخت کرنے کی بات کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کونسی چیز انہیں اپنی اشیاء کی تجارت سے روک رہی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کشمیر دیگرکئی ریاستوں سے بہتر ہے۔ خواہ شرح خواندگی ہو، صحت ہو، لوگ خوشحال ہیں۔ جے این یو کے جنرل سکریٹری اعجاز احمد راتھر نے کہا کہ یہ لوگ ترقی کی بات کررہے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار کے مطابق کئی اعتبار سے گجرات جموں کشمیر سے پیچھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ سنگین غلطی ہے اور اسے پچھتانا پڑے گا۔ انہوں نے ہماری شناخت چھین لی ہے۔ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے۔