نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم ہو

   

Ferty9 Clinic

نفرت کا کیا گِلہ کہ محبت بنی سزا
شعلوں سے بچ کے نکلے تو بارش میں جل گئے
صحافی محمد زبیر کو مختلف مقدمات میں پھانسنے کی کوششوں کو ایسا لگتا ہے کہ کچھ بریک لگ گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے محمد زبیر کو آج مزید کچھ راحت دی ہے اور اترپردیش پولیس سے کہا ہے کہ ان کے خلاف پانچ مقدمات میں آئندہ سماعت تک کوئی کارروائی نہ کی جائے جبکہ عدالت کی رائے یہ تھی کہ ایسا لگتا ہے کہ شیطانی چکر چل رہا ہے ۔ محمد زبیر کو سپریم کورٹ سے چھٹے مقدمہ میں ضمانت پہلے ہی مل چکی ہے تاہم وہ ہاتھرس میں درج ایک مقدمہ میں جیل میںہیں۔ محمد زبیر نے ان کے خلاف اترپردیش کے سیتاپور ‘ لکھیم پور کھیری ‘ غازی آباد ‘ مظفر نگر اور ہاتھرس میں درج تمام چھ ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کیلئے درخواست داخل کی تھی ۔ ان کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کا الزام ہے حالانکہ کچھ ایف آئی آر میں دوسرے دفعات بھی درج ہیں۔ عدالت میں اس معاملہ کی سماعت کی سماعت کے دوران محمد زبیر کے وکیل نے ریمارک کیا کہ اس طرح سے نشانہ بنانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے ۔ یہ قانونی عمل کا استحصال ہے ۔ عدالت نے آئندہ سماعت 20 جولائی کو مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف آئندہ سماعت تک مزید کوئی کارروائی نہیںہونی چاہئے ۔ جب ریاستی حکومت کے وکیل نے کہا کہ دوسری عدالتوں کے احکام جاری کرنے پر کوئی امتناع نہیں ہے تو بنچ میں شامل جسٹس چندرا چوڑ نے کہا کہ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ شیطانی چکر چل رہا ہے ۔ انہیں ایک کیس میں عبوری ضمانت ملتی ہے تو دوسرے کسی اور کیس میں انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ محمدزبیر کو چار سال پرانے ایک ٹوئیٹ کے سلسلہ میں گرفتار کرکے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ یہ ٹوئیٹ 1983 کی ایک فلم کے ایک منظر پر مشتمل ہے ۔ جس طرح سے اترپردیش پولیس کی جانب سے انہیںنشانہ بنایا جا رہا ہے اور کچھ گوشوں کی جانب سے ان کے خلاف منافرت پھیلائی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ واقعی کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح سے نشانہ بنانے کا سلسلہ روکا جانا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے محمد زبیر کو کچھ راحت دیتے ہوئے آئندہ سماعت تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی یو پی حکومت کو ہدایت دی ہے ۔
محمد زبیر کے خلاف جو کارروائیاںچل رہی ہیں ان کا آغاز دہلی سے ہوا تھا ۔ دہلی میں درج مقدمہ میں انہیں ضمانت مل گئی تھی ۔ پھر ان کے خلاف اترپردیش میں مقدمات درج کئے گئے ۔ ایک مقدمہ تو اس وقت درج کیا گیا جب محمد زبیر تحویل میں تھے ۔ چار سال پرانا ٹوئیٹ وہ بھی ایک فلم کے منظر پر مشتمل ہے ۔ یہ فلم بھی وہ ہے جسے سنسر بورڈ سے منظوری مل چکی تھی ۔ یہ فلم ملک بھر میںنمائش بھی کی گئی ۔ اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ تاہم اب اس کو بہانہ بناتے ہوئے جس طرح سے زبیر کو نشانہ بناے جا رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ حقائق کا پتہ چلانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بے دریغ انداز میں کی جا رہی ہیں۔ قوانین کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ قانون مظلوم کو اس کا حق دلانے کیلئے ہوتا ہے ۔ ملک میں نظم برقرار رکھنے کیلئے ہوتا ہے ۔ مجرمین کو سزائیں دلانے کیلئے ہوتا ہے ۔ امن و آہنگی متاثر کرنے والوں کیلئے ہوتا ہے ۔ قانون کے رکھوالے غیرجانبداری کے پابند ہونے چاہئیں۔ تاہم آج سیاسی اثر و رسوخ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ نفاذ قانون کی ایجنسیوںاور اداروں کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور انہیں جیلوں میں بند کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پولیس اہلکار بھی اپنی پیشہ ورانہ دیانت اور غیر جانبداری کو داؤ پر لگاتے ہوئے سیاسی اشاروں پر کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں ۔
پولیس کو بعض مواقع پر عدالتوں سے سرزنش کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ۔ پولیس کو یہ مشورے بھی دئے گئے ہیں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے اور اس کو دیانتداری سے پورا کرے لیکن پولیس اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرنے میں مصروف ہے ۔ نہ عدالتوں کا مشورہ قبول کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اپنے فرائض کا ہی کوئی خیال رکھا جا رہا ہے ۔ جس طرح سے عدالتوں میں اس نوعیت کے مقدمات پر رائے ظاہر کی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کم از کم پولیس اور اس کے ذمہ داران کو اپنی روش پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ پولیس کے امیج کو متاثر ہونے سے بچانے اور انصاف کے تقاضوںکو پورا کرنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔