نصابی کتب میں بھی مسائل

   

کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں
بعد میں سب تدبیریں سوچیں
کسی بھی ملک میں تعلیم کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ شعبہ تعلیم کو ہر طرح کے نزاعات سے پاک کرتے ہوئے طلباء و طالبات کو مستقبل کے معمار بنانے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ طلباء و طالبات کو بہتر ماحول میں اعلی سے اعلی تعلیم دینے پر توجہ دی جاتی ہے اور اس معاملہ میں تمام تر دمہ داریاں ماہرین تعلیم کو دی جاتی ہیں یا پھر ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے کام کیا جاتا ہے ۔ تاہم ہندوستان میں دیکھا جا رہا ہے کہ ایک مخصوص سوچ و فکر کو زندگی کے ہر شعبہ پر مسلط کرنے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں اور اس معاملہ سے شعبہ تعلیم کو بھی استثنی حاصل نہیں ہے ۔ تعلیم کے شعبہ کو بھی زعفرانی سوچ سے وابستہ کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ۔ ایسے افراد کو محکمہ تعلیم اور وزارت تعلیم میں ذمہ داریاں سونپی گئیں جو ایک مخصوص سوچ و فکر سے وابستہ تھے اور اسی کو آگے بڑھانے میں یقین رکھتے ہیں اور ملک کے مروجہ نظام تعلیم کو قبول کرنے تیار نہیں تھے ۔ یہی وجہ رہی کہ وقفہ وقفہ سے کچھ نہ کچھ مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں اور کوئی نہ کوئی کام ایسا ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں ملک بھر میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ پھر بتدریج اس کو دور کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات پیش آئے ہیں جہاں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور تاریخی شواہد کو بھی جھٹلانے سے گریز نہیں کیا گیا تھا ۔ اب تازہ جو مسئلہ ہے وہ این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی کتاب کی وجہ سے پیدا ہوا تھا جس میں عدلیہ میں کرپشن کا ایک پورا باب شامل کردیا گیا تھا ۔ عدلیہ میں کرپشن کا باب شامل کرتے ہوئے طلباء طالبات کے ذہن متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ ہندوستان کا عدلیہ کا نظام بھی کرپشن سے پاک نہیں ہے اور وہاں بھی پیسے کی فراوانی چلتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا سخت نوٹ لیا تھا اور این سی ای آر ٹی کی نصاب کتب کے چلن پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ حالانکہ این سی ای آر ٹی کا ادعا تھا کہ یہ بالکل انجانے میں کی گئی غلطی تھی اور عمدا عدالتی نظام کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے ۔ عدالت نے تاہم اس کتاب کے چلن پر ہی امتناع عائد کرنے احکام جاری کردئے ۔
اصل مسئلہ ایک غلطی یا ایک باب کی شمولیت کا نہیں ہے یا ایک ادارہ کے خلاف تبصرہ کا سبق کا نہیں ہے ۔ سب سے بنیادی اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام کوہی مسلسل اقدامات کے ذریعہ داغدار کیا جا رہا ہے ۔ ملک کی جو شاندار تاریخ اور تہذیبی ورثہ رہا ہے اسے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ایک مخصوص سوچ کو مسلط کیا جارہا ہے اور یہ سوچ بھی کوئی تعمیری یا مثبت سوچ نہیں منفی سوچ ہے ۔ اس سوچ میں کسی دوسرے کی گنجائش ہی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ اس بیمار ذہنیت کی وجہ سے ملک کے نظام تعلیم پر اثر ہونے لگا ہے ۔ ملک کے جو تعلیمی ادارے ہیں وہ کبھی گنگا جمنی تہذیب کے مراکز ہوا کرتے تھے اور یہاں طلباء و طالبات وک سماجی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا رس دیا جاتا تھا ۔ جس طرح نظام تعلیم کو ایک مخصوص اور منفی سوچ کے ذریعہ پراگندہ کیا جا رہا ہے اسی طرح ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں بھی ماحول کو بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی ہندو ۔ مسلم سوچ کا زہر اس حد تک اگل دیا گیا ہے کہ اب کیمپسوں میں آپسی بھائی چارہ کا ماحول ہی دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں طلباء و طالبات کی سوچ بھی متاثر ہو رہی ہے اور اس کا لازمی اثر ملک کے تعلیمی مستقبل پر مرتب ہوگا ۔ نوجوانوں کے مستقبل پر اس کے منفی اثرات ہونگے اور وہ ترقی کرنے کی بجائے بیہودہ سوچ کے ساتھ گھٹیا حرکتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔
اب جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی کتاب سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے ایسے میں مرکزی وزیر تعلیم مسٹر دھرمیندر پردھان نے وضاحت کی کہ عدالتی حکم پر عمل کیا جائے گا اور اس کی تعمیل میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی ۔ مسٹر پردھان نے وضاحت کی کہ جو نصابی کتب شائع کی گئی تھی اس کا مقصد عدلیہ کی ہتک کرنا یا اس کے امیج کو متاثر کرنا نہیں تھا بلکہ غلطی کی وجہ سے یہ باب اس کتاب میں شائع ہوگیا تھا ۔ حکومت کو نظام تعلیم میں کسی طرح کی مداخلت کئے بغیر اور کوئی سوچ مسلط کئے بغیر ماہرین تعلیم کے سپرد کردینے کی ضرورت ہے اور جمہوریت کے تمام ادار وں کے وقار اور ان کے معیار کی برقراری اور بحالی کیلئے بھی موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔