ناکافی تنخواہ اور بیوی بیٹی کی صحت کے مسئلہ پر ذہنی دباؤ پر انتہائی اقدام
نظام آباد۔ 26 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صحت کے مسائل اور قرضوں کے بوجھ سے پریشان ایک باپ نے اپنی 18 ماہ کی بیٹی کو لے کر تالاب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ یہ افسوسناک واقعہ نظام آباد ضلع کے موپال منڈل کے نیالکل تالاب میں پیش آیا۔ تفصیلات کے بموجب موپال سب انسپکٹر یادگیری گوڑ نے بتایا کہ نظام آباد ضلع مستقرکے گاجل پیٹ بھوئی گلی کے رگھوپتی کرانتی (35) سالہ کو ایک 18 ماہ کی نیہا اور ایک اور چھ ماہ کی بیٹی ہے۔ رگھوپتی کرانتی آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ دھرمارم کے اقامتی اسکول میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کر رہا تھا اس کی بڑی بیٹی نیہا پیدائش سے ہی دماغ سے متعلق بیماری میں مبتلا ہے۔ اس وجہ سے وہ گزشتہ چند ماہ سے نیلوفر اسپتال میں زیر علاج تھی۔ اس کے علاوہ حال ہی میں کرانتی کی بیوی منسا کی چھاتی کے کینسر کی سرجری ہوئی تھی۔ ان دونوں کا علاج صحت کے مسائل کی وجہ سے قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ ناکافی تنخواہ کے علاوہ اس کی بیوی اور بیٹی کی صحت کے مسئلہ سے شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا تھا۔ اتوار کو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کے ساتھ اپنی سالگرہ کی تقریبات کا اہتمام کیا۔ جب سب سو رہے تھے اس نے پیر کی اولین ساعتوں میں اپنی بڑی بیٹی نیہا کو جگایا اور بائیک پر نیالکل گاؤں پہنچا اور اپنی بیٹی کے ساتھ ماسانی تالاب میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی خودکشی سے قبل ایک تحریر چھوڑا جس میں بتایا کہ معاشی بحرانی سے دختر کی ناسازی طبیعت ،بیوی کی سرجری سے دماغی طور پر پریشانیاں میں مبتلا ہو کر خودکشی کر رہا ہوں۔ پولیس اطلاع ملنے پر فوری یہاں پہنچ گئے اور تفصیلات حاصل کی فوری افراد خاندان کو اطلاع دی اورنعشوں کو نکالنے کے لیے غوطہ خوروں کو طلب کیا۔غوطہ خور آج صبح 11 بجے کے قریب دونوں کی نعشیں برآمدکئے۔ پولیس نے پنچنامہ کے بعد نعشوںکو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نظام آباد منتقل کیا۔ کرانتی کی بیوی منسا اور گھر والے اپنے شوہر اور بیٹی کی نعشوں کو دیکھ کر رو پڑے۔ افراد خاندان کی شکایت پر پولیس نے اس کیس کو درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ بعد پوسٹ مارٹم نعشوں کو ورثا کے حوالے کردیا گیا ۔