نظام آباد میں مسلمانوں کے کئی مسائل التواء کا شکار

   

مسلم میٹرنٹی نرسنگ ہوم ،مِنی حج ہاوز اورمالاپلی میں گرلزجونئیر کالج کا قیام ناگزیر

نظام آباد ،ضلع نظام آباد میں مسلم مسائل کی عدم یکسوئی اور قرضہ جات کی عدم ادائیگی کے باعث تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے نظام آباد شہر میں مسائل زیر التواء ہے جس کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔شہر نظام آباد میں مسلمانوں کی کثیر تعداد ہے حیدرآباد کے بعد نظام آباد میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے لیکن اس کے باوجود بھی مسلمانوں کیلئے مسلم میٹرنٹی نرسنگ ہوم نہ ہونے کی وجہ سے مسلم خواتین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور سرکاری دواخانہ میں مسلمانوں کے ساتھ نازیبہ سلوک کیا جارہا ہے ۔ سابق میں اس مسئلہ کو لیکر سابق رکن پارلیمنٹ نے میٹرنٹی نرسنگ ہوم کے قیام اعلان کیا تھا نہ صرف میٹرنٹی نرسنگ ہوم بلکہ شادی خانہ اور اُردو میڈیم جونیئر کالج مالاپلی کی کشادگی کا اعلان کیا تھا لیکن 6 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود بھی ان مسائل کی یکسوئی کی گئی نہ صرف ان مسائل بلکہ نظام آباد ضلع سے ہر سال 300 سے زائد عازمین حج حج کیلئے روانہ ہوتے ہیں اور منی حج ہائوز قائم کرنے کا ہر مرتبہ اعلان کیا گیا لیکن حج ہائوز کی تعمیر عمل میں نہیں لائی گئی ۔روزنامہ سیاست میں شائع ہونے والی خبر پر آٹو نگر کے علاقہ میں زمین کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اس کے علاوہ مالاپلی گرلز جونیئر کالج کی کشادگی کے بارے میں واضح طور پر اعلان کرتے ہوئے شہر نظام آباد میں لڑکیوں کو تعلیمی طور پر فروغ دینے کیلئے مالاپلی کے علاقہ میں لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے 2008 ء میں گرلز جونیئر کالج کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس کی کشادگی نہیں کی گئی تھی ۔ ٹی آرایس اقتدار میں آنے کے بعد جونیئر کالج کی کشادگی کا اعلان کیا تھا 6 سال کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی اس کی کشادگی عمل میں نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے سینکڑوں طالبات تعلیم حاصل کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور خانگی جونیئر کالجوں میں داخلہ لینے کیلئے مجبور ہورہی ہے ۔ گذشتہ 5 سال سے اقلیتی طبقہ کو قرضہ جات کی فراہمی نہیں کے برابر ہے ۔ سال 2015-16 میں درخواستیں حاصل کرتے ہوئے ان میں سے 75 فیصد قرضہ جات اسی سال دئیے گئے تھے اور باقی 25 فیصد افراد کو سال 2020 ء میں دئیے گئے ۔ انتخابات کے موقع پر قرضہ جات دینے کا اعلان کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر درخواستیں حاصل کی گئی اور تقریباً ایک سال گذرنے کے بعد ان قرضہ جات کو منظور کیا گیا جبکہ 6 سال کے وقفہ میں تقریباً 10 کروڑ روپئے کے قرضہ جات منظور کئے گئے ۔ اقلیتی بہبود کے نام پر کروڑوں روپئے کا بجٹ منظور کیا جاتا ہے لیکن بجٹ کی اجرائی نصف سے بھی کم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے کئی درخواستیں زیر التواء ہے اور ایک سال سے کئی افراد قرضہ جات کی فراہمی کو لیکر اقلیتی بہبود آفس کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے ڈرائیور کم اونر اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے درخواستیں حاصل کی لیکن ابھی تک ان درخواستوں کی یکسوئی نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ محکمہ فینانس کارپوریشن کے تحت چلائی جانے والی اُردو اکیڈیمی کا حال بھی نظام آباد میں انتہائی ابتر ہے اور کمپیوٹر سنٹر کی گذشتہ 3 سال سے زائد وقفہ سے بند پڑا ہے جبکہ نظام آباد کمپیوٹر سنٹر تلنگانہ میں حیدرآباد کے بعد سب سے زیادہ چلنے والا کمپیوٹر سنٹر تھا اور یہاں سے ہزاروں طلباء نے کمپیوٹر کی تربیت حاصل کرتے ہوئے خلیج اور مختلف مقامات پر روزگار سے جڑے ہوئے ہیں لیکن حکومت اچانک ان کمپیوٹر سنٹر کو بند کردیا اور حالیہ چند دن قبل اُردو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر نظام آباد کا دورہ کرتے ہوئے کمپیوٹر سنٹرس کو شادی خانہ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے نظام آباد کی عوام میں تشویش پائی بھی پائی جارہی ہے جبکہ اُردو کے فروغ کیلئے کمپیوٹر سنٹر کی کشادگی کو ناگزیر سمجھا جارہا ہے اور ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی 2 ماہ سے زیر التواء ہے اور وقف مسائل کے حل میں بھی حکومت کی ناکامی کی شکایت عام ہے جس کی وجہ سے کئی اراضیات غیر مجاز طور پر قبضہ ہوئے ہیں اور حالیہ دنوں میں تعمیر کردہ شاپنگ کامپلکس کو لیکر بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔