نظام آباد میں کسانوں کی تائید میں احتجاج

   

Ferty9 Clinic

سیاہ زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ ، مختلف قائدین کا خطاب

نظام آباد : مرکزی حکومت کی زرعی پالیسی کیخلاف دلی میں کسانوں کی جانب سے کئے جانے والی ہڑتال کی تائید میں آج سی آئی ٹی یو ، سی پی ایم و دیگر تنظیموں سے وابستہ قائدین نے دھرنا چوک پر ہڑتال کا آغاز کیا اور ہڑتال کا آغاز تلنگانہ رعیتو سنگم کے ریاستی سکریٹری لکشمی ، بی ایس این ایل کے ریاستی نائب صدر مدھو سدن نے افتتاح کیا اس موقع پر تلنگانہ رعیتو سنگم کے ریاستی سکریٹری لکشمی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 33 دنوں سے کسا ن اپنے مطالبات کی یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہوئے سردی کی پرواہ کئے بغیر سیاہ قانون کیخلاف احتجاج کررہی ہے اور مودی حکومت کسانوں کی ہڑتال کو کمزور کرنے کیلئے طرح طرح کی کوششیں کرنے کے علاوہ ان کیخلاف بیان بازی بھی کی جارہی ہے سپریم کور ٹ کی جانب سے ہڑتال پر بھی مداخلت کی گئی ۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی کسانوں کی ہڑتال پر تائید حاصل ہورہی ہے لیکن مودی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے شریمتی لکشمی نے کہا کہ روم جل رہا تھا تو بادشاہ باسوری بجارہا تھا یہی حال مودی کا ہے ہٹلر کی طرح یہ بھی ایک دن فنا ہونے والا ہے اور تاریخ رقم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فل سیکوریٹی کا بحران پیدا ہونے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تینوں سیاہ قانون کو رد کرتے ہوئے بلوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اگر کسانوں کی ہڑتال کو ختم نہیں کیا گیا تو کسان دلی تک پہنچنے کیلئے بھی باز نہیں آئیں گے ۔ ہڑتال میں قائدین گوردھن ، وی ایل نارائنا ، سمبھانی لتا،نورجہاں ، رمیش بابو کے علاوہ دیگر نے بھی شرکت کی ۔