نظام ہفتم نواب میر عثمان علی خان کی دریا دلی کا ثبوت ۔ آج بھی ملکہ برطانیہ کے زیورات میں سب سے منفرد
حیدرآباد 26 ستمبر ( سیاست نیوز) نظام دکن کا جب کبھی ذکر آتا ہے تو بہترین پکوان ‘ اسٹائلش کپڑے ‘ منفرد محلات اور شاہانہ طرز زندگی کا تصور آتا ہے تاہم نظام دکن کا ایک اور خاصہ ان کے منفرد اور شاندار زیورات بھی ہیں۔ عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ نظام ہفتم میر عثمان علی خان بہادر دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک تھے ۔ ایسے میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ان کے پاس زیورات ‘ ہیروں‘ سونے کی اشیا اور قیمتی پتھروں کا بھی بیش بہا ذخیرہ تھا ۔ اس تقریبا سارے ہی کلکشن کو حکومت ہند نے خرید لیا ہے اور اس کی وقفہ وقفہ سے نمائش کی جاتی ہے ۔ تاہم نظام دکن کے زیورات کی سب سے منفرد نمائش اس وقت ہوئی جب ملکہ ایگزبتھ دوم ( ملکہ برطانیہ ) نے کارٹئیر ہیرے کا نیکلس پہنا ۔ ملکہ برطانیہ کو اس نیکلس کا تحفہ نظام ہفتم نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے پیش کیا تھا جب ان کی شادی 20 نومبر 1947 کو پرنس فلپ کے ساتھ ڈنمارک میں ہوئی تھی ۔ نظام دکن نے ملکہ کو ’ حیدرآباد تیارا ‘ کا بھی تحفہ دیا تھا جس کا ڈیزائین انگلش گلاب اور تین علیحدہ پھولوں کی شاخوں پر مشتمل تھا جو تمام ہیرے کے بنے تھے اور انہیں پلاٹینم دھات میں تیار کیا گیا تھا ۔ نظام دکن کا دیا ہوا نیکلس بھی پھولوں کی طرح ہی تھا جو ہیروں سے جڑا ہوا اور پلاٹینم میں بنا ہوا تھا ۔ برطانوی آرٹ مورخ ہیوگ رابرٹس نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’ ملکہ کے ہیرے ‘‘ میں کچھ اس طرح تحریر کیا ہے ۔ ’’ ہموار مرکز جو دوہرے پدک سے علیحدہ کیا جاسکتا تھا جس میں 13 ایمیرالڈ ( زمرد ) سے تراشے ہیرے ہیںاس کی چین 38 شاندار تراشے گئے اس نیکلس میں جڑے ہوئے ہیں ‘‘ ۔ نظام دکن نے اپنی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارٹئیر کو ہدایت دی تھی کہ دلہن ( اس وقت کی شہزادی ایلزبتھ ) کو ان کے ذخیرہ سے جو چاہے پسند کرنے کا موقع دیا جائے ۔ اس وقت شہزادی نے یہ نیکلس اور اس سے میچنگ پھولوں نما تیارا پسند کیا تھا ۔ تاہم وہ اس کی پہلی مالک نہیں ہیں۔ کارٹئیر نے یہ نیکلس 1935 میں تیار اور فروخت کیا تھا پھر 1936 میں اس کے مالک سے واپس خرید لیا تھا ۔ اس نیکلس کو ذین تین کئے ہوئے 1930 کی دہائی کی ایک تصویر کاونٹیس آف واروک کی ہے جنہوں نے ایک تصویر کیلئے اسے پہنا تھا ۔ تاہم یہ نیکلس اب ملکہ کے زیورات کے ذخیرہ کا جز و لائنفک ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کا پسندیدہ نیکلس ہے کیونکہ انہوں نے اسے کئی مواقع پر پہنا تھا ۔ انہوں نے 1951 میں اپنے اولین دورہ واشنگٹن کے موقع پر نیکلس پہنا تھا جب انہوں نے اس وقت کے صدر ہیری ٹرومن سے ملاقات کی تھی ۔ وہ اب بھی اہم مواقع پر اسے پہنتی ہیں۔ حالیہ وقتوں میں ڈچس آف کیمبرج پرنسیس کیٹ مڈلٹن نے بھی کم از کم دو مواقع پر اسے پہنا ہے ۔