نفرتوں کے فرو غ کا نتیجہ

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان کو نفرت کے ماحول میںڈھکیلا جا رہا ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے ۔ زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکرس کی جانب سے اس جلتی پر تیل کا کام کیا جا رہا ہے ۔ آگ بھڑکائی جا رہی ہے ۔ یہ آگ عوام کے ذہنوںمیں لگائی جا رہی ہے ۔ سماج کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے متنفر کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے کی کوششیں عروج پر پہونچ گئی ہیں۔ ہندوستان کئی مذاہب کے ماننے والوں کا گہوا رہ ہے ۔ یہاں سبھی مذاہب کے ماننے والے لوگ امن و چین اور پرامن بقائے باہم کے اصولوںکے ساتھ زندگی گذارتے ہیں۔ ایک دوسرے سے بہترین تعلقات بھی رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں برابر شریک ہوا کرتے ہیں۔ آج بھی ساری کوششوں کے باوجود بے شمار واقعات ایسے ہمیں دیکھنے میںآتے ہیںجہاں دیوالی میں مسلمان حصہ لیتے ہیں تو عیدوں اور تہواروں میںغیر مسلم بھائی بھی اپنے دوستوں کو مبارکباد دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہندوستان کی دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت ہے ۔ ہندوستان ساری دنیا میںکثرت میں وحدت کی ایک شاندار اور بہترین مثال ہے ۔ اس شبیہہ کو کچھ گوشوں کی جانب سے بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس معاملہ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ عوام کو ایک دوسرے سے متنفر کیا جا رہا ہے ۔ انہیں ایک دوسرے سے دور کرنے کی سازشوں پر عمل ہو رہا ہے لیکن اس بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے ہندوستان کی ایک خوبصورت اور بہترین جو تصویر دنیا بھر کے سامنے ہے اس کو متاثر کیا جا رہا ہے ۔ صرف اپنے پراگندہ ذہنوں کے ذریعہ ماحول کو خراب کرنے کی کوششیں سماج میں نفرتوں کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔ حیدرآباد میں بھی یہی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے اور اس کے نتائج یہ نکل رہے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی صورت دیکھنے یا ان سے کوئی سامان لینے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
ایک فوڈ ڈیلیوری ایپ کے ذریعہ کھانا منگوانے والے ایک گاہک نے یہ شرط عائد کردی کہ اسے کسی مسلمان فوڈ ڈیلیوری بوائے کے ذریعہ کھانا نہ بھیجا جائے ۔ یہ ایک طرح کی جنونیت ہے جس کے ذریعہ اپنے ذہنوں کی پراگندگی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ اس سے قبل بھی اسی طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ یہ سماج میں دوریاں پیدا کرنے والی ذہنیت ہے ۔ یہ بیمار ذہنیت کہی جاسکتی ہے کیونکہ سارا ہندوستان دنیا بھر میں منفرد شناخت رکھتا ہے اور اپنے ملک میں اور ہمارا اپنا شہر حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کی مثال سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ دونوں طبقات کے مابین سماجی اور تجارتی تعلقات انتہائی مستحکم ہیں۔ ان تعلقات میں بگاڑ پیدا کرتے ہوئے ماحول کو بگاڑا جا رہا ہے ۔ کوئی کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو اگر انسان ہے تو اس کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو انسانیت میں یقین رکھتے ہیں۔ کسی مذہب کے تعلق سے اتنی نفرت کسی کو بھی ذیب نہیں دیتی ۔ جو لوگ جس مذہب کو مانتے ہیںخود ان کا اپنا مذہب بھی انہیں کسی اور مذہب کے تعلق سے ذہنوں میںنفرتیں پالنے اور انہیں بڑھاوا دینے کی تعلیم و تربیت نہیںدیتا ۔ تاہم سماج کو جس طرح سے باٹا جا رہا ہے ۔ سماج میں جس طرح سے نفرتوں کو ہوا دی جا رہی ہے اس سے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔ ایسی کوششوں کی ہر گوشے سے نفی اور مذمت کی جانی چاہئے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی بھی کی جانی چاہئے ۔
سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا اپنا مذہب جس طرح ان کیلئے اہمیت کا حامل ہے اسی طرح دوسروں کیلئے بھی ان کے اپنے مذہب کی اہمیت ہے ۔ صرف مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ اس طرح کی حرکتیں کرنے کی ہندوستان جیسے ملک میں اور حیدرآباد جیسے شہر میں کوئی اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔ ایسی فرمائش کرنے والے فرد کے خلاف سوشیل میڈیا پر عوام نے ناراضگی اور کچھ نے تو برہمی کا اظہار بھی کیا ہے ۔ یہ ہمارے عوام کے شعور کا مظاہرہ ہے ۔ سبھی گوشوں کواور خاص طور پر سوشیل میڈیا پر سرگرم رہنے والوں کو ایسی کوششوں کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بیمار ذہنیت کا شکار افراد اور مذہبی جنون کا شکار افراد کی حوصلہ شکنی کیلئے آگے آنا چاہئے ۔