نفرت انگیز تقاریر ‘ ارکان اسمبلی محفوظ

   

Ferty9 Clinic

مروّتوں کا زمانہ گزر گیا شاید
وہ آنکھ آنکھ جو پانی تھا مرگیا شاید
کہا جاتا ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے ۔ ایسا ہونا بھی چاہئے ۔ تاہم حالیہ عرصہ میں دیکھا جارہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں قانون کے نفاذ میں امتیاز کر رہی ہیں۔ یہ ایجنسیاں اپنی مرضی یا پھر سیاسی اشاروں پر کام کرتے ہوئے کسی کو غیر ضروری طور پر مقدمات کا شکار کر رہی ہیں تو کسی کے خلاف پورے ثبوت و شواہد سوشیل میڈیا میں دستیاب رہنے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر کو حکومتوں اور خاص طور پر تحقیقاتی ایجنسیوں نے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جو لوگ صرف حکومت سے اختلاف رکھتے تھے انہیں نشانہ بنایا ہے اور ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے انہیں جیل بھیجا جاچکا ہے ۔ ان کی ضمانتوں کی تک شدت سے مخالفت کی جا رہی ہے اور انہیں قانونی تقاضوں کی تکمیل کا تک موقع نہیں دیا جار ہا ہے ۔ اس کے برخلاف سیاسی اعتبار سے طاقت رکھنے والے افراد اور ارکان اسمبلی وغیرہ کی اشتعال انگیزیوں اور نفرت انگیز تقاریر کے معاملہ میں پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں دوہرے معیارات کا استعمال کر رہی ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف مقدمات درج کرنے میں پس و پیش کیا جا رہا ہے ۔ پہلے تو مقدمہ درج ہی نہیں کیا جاتا ۔ کہا جاتا ہے کہ قانونی پہلووں کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ پھر اگر کسی مجبوری میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے تو بات صرف ایف آئی آر کے اندراج تک محدود ہوتی ہے ۔ انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ درجنوں مقدمات کا سامنا کرنے والے سیاسی قائدین اور ارکان اسمبلی کھلے عام گھومتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے انہیں عدالتوں میں مفرور قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ لوگ پولیس عہدیداروں کے ساتھ ہی عوامی تقاریب میں شریک بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ نہ ہی انہیں گرفتار کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی نوٹس جاری کی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ خود کو ماورائے قانون سمجھنے لگے ہیں اور ان کی زبانیں بے تحاشہ کڑوی اور زہریلی ہوگئی ہیں کیونکہ انہیں قانونی کارروائی یا مقدمات کا کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے ۔
تلنگانہ میں بھی صورتحال یہی ہے ۔ کسی عام شہری یا کسی اور گوشے کی جانب سے اگر کوئی ریمارک کیا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ کیا جاتا ہے تو فوری حرکت میں آتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے ۔ نوٹس جاری کی جاتی ہے ۔ مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور عدالتوں میں پیش کردیا جاتا ہے۔ یہی کام جب ارکان اسمبلی کی جانب سے کیا جائے تو پولیس مقدمہ درج کرنے سے خوف کا شکار ہوجاتی ہے ۔ پس و پیش کیا جاتا ہے یا پھر ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے ۔ شہر میں بی جے پی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے مذہبی منافرت پھیلانے کا کام دھڑلے سے کیا جا رہا ہے ۔ انتہائی اشتعال انگیز ریمارکس کئے جا رہے ہیں ۔ خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا سلسلہ دراز کردیا گیا ہے ۔ مسلم مذہبی ہستیوں اور اولیائے کرام کے خلاف بھی بدزبانی کی جا رہی ہے ۔ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ صرف ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے وقت ضائع کیا جا رہا ہے اور مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ ارکان اسمبلی وقفہ وقفہ سے بدزبانی کر رہے ہیں۔ اپنے دماغوں کے زہر کا اظہار کر رہے ہیں۔ سماج میں نفرت پھیلا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں۔ دلآزاری کی جا رہی ہے ۔ انہیںپولیس کا کوئی خوف نہیں رہ گیا ہے ۔ انہیں یہ یقین ہوچلا ہے کہ پولیس ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی زہر افشانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس اس معاملے میں اپنی پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کرے ۔ اپنے فرائض کو بلا خوف یا بلا لحاظ عہدہ و سیاسی وابستگی انجام دے ۔ عام شہریوں کیلئے ایک طریقہ کار اور عوامی ووٹ سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کیلئے علیحدہ طریقہ کار نہیں ہونا چاہئے ۔ جس طرح کی سہولیات اور رعایتیں ارکان اسمبلی کو دی جاتی ہیں وہ عوام کو نہیں دی جاتیں ۔ ارکان اسمبلی بھی قانون کی نظر میں برابر ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی بھی عام شہریوں کی طرح ہونی چاہئے ۔ نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی پس و پیش کا شکار ہوئے بغیر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔