نفرت و اخلاقی گراوٹ کی انتہاء

   

Ferty9 Clinic

مظہر تہذیب ہے اک ایک تار پیرہن
بس یونہی اندازۂ سود و زیاں کرتے چلو
سماجی جماعتیں اور ان کیلئے در پردہ کام کرنے والی نام نہاد تنظیمیں جب سماج میں نفرت پھیلاتی ہیں اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی کچھ مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت کے نتیجہ میں بھی ہو رہا ہے اور اس کا شکار ہونے والے اخلاقی گراوٹ کی انتہاء کو پہونچ چکے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر ایک ایپ بناتے ہوئے ان مسلم خواتین کو ’ ہراج ‘ کیلئے پیش کرنے جیسی مذموم حرکت کی گئی جو سماجی اور سیاسی مسائل پر اپنی ایک رائے رکھتی ہیں اور سماج میں انصاف و مساوات کیلئے جدوجہد کرتی ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں خواتین کی عزت و احترام اس حد تک کی جاتی ہے کہ اسے دیوی کا رتبہ دیا جاتا ہے لیکن وہیں مذہبی منافرت کے جنون میں انتہاء کو پہونچنے والے انتہائی بیہودہ عناصر اس حد تک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں کہ مسلم خواتین کو ہراج کرنے جیسی بیہودہ اور شرمناک حرکت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور انہیں اپنی اس اخلاقی پستی اور ذہنی گراوٹ کا احساس تک نہیں ہورہا ہے ۔ ویسے تو ملک میں وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ ان کے خلاف سنگین ریمارکس ہوتے ہیں۔ اشتعال انگیزی سے کام لیا جاتا ہے ۔انہیں ملک چھوڑنے کیلئے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ ان کے رائے دہی کے حقوق سلب کرلینے کے مطالبات کئے جاتے ہیں لیکن خواتین کو ہراج کرنے جیسی شرمناک حرکت ہندوستان کی شبیہہ پر ایک کلنک سے کم نہیں ہے ۔ یہ لوگ ملک کے کلچر اور یہاں کی تہذیب و تمدن کے نام پر دھبہ ہیں۔ انہیں مذہبی منافرت میں اس حد تک پاگل اور جنونی بنادیا گیا ہے کہ انہیں خواتین کی عزت و احترام کا تک پاس و لحاظ نہیں رہ گیا ہے ۔ یہی وہ عناصر ہیں جو دوسروں کو اخلاقیات اور مذہب کا درس دینے کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے کی بات آتی ہے تو یہ اخلاقی پستی اور گراوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور انہیں کوئی افسوس یا ملال تک نہیں ہوتا ۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے ۔
اس سے قبل بھی ایک بار مسلم خواتین کو اسی طرح ایک ایپ کے ذریعہ بدنام و رسواء کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور دوبارہ ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ اپنی ذہنی گندگی کا ان بیہودہ عناصر نے مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ عناصر ایسے ہیں جو نفرت کی انتہاء میں خود اپنی ماں بہنوں کی عزتوں و عفتوں کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ سال گذشتہ بھی جب اس طرح کی نازیبا حرکت کی گئی تو مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی گئی تھیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری نفاذ قانون کی ایجنسیاں اور پولیس کے اہلکار بھی مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں اور نازیبا حرکتوں میں بھی پوری دیانتداری اور فرض شناسی سے کام کرنے کی بجائے اپنے ذہنی تحفظات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سال کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں اب ایک بار پھر اسی ذہنی گندگی کو دہرایا گیا ہے ۔ سابق میں ہی پولیس اگر کسی طرح کے ذہنی تحفظ کا شکار ہوئے بغیر ایسے بیہودہ عناصر کی سرکوبی کرتی اور انہیںسماج میں برہنہ کرکے گھمایا جاتا اور قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی تو پھر اس طرح کی حرکت دوبارہ کرنے کی کوئی جراء ت نہ کرتا ۔ پولیس یا نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے ساتھ حکومتوں کو بھی اس معاملے میں حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی مفادات یا وابستگیوں سے بالاتر ہوتے ہوئے ہندوستان کی تہذیبی اور سماجی روایات کو برقرار رکھنے کیلئے جس طرح کے جنونیوں اور سماج کیلئے ناسور عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔
ان گوشوں کے خلاف بھی حکومت اور متعلقہ اداروں کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے جو اپنے ادنی سے مفادات کیلئے یا اپنی بیمار سوچ کے ذریعہ سماج میں نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان کی زہریلی حرکتوں کی وجہ سے ہی آج ملک میں خواتین کی عزت و ناموس کو متاثر کرنے کی حرکتیں ہو رہی ہیں۔ جو عناصر سماج میں گندگی پھیلا رہے ہیں انہیں اس حد تک جنون کا شکار کرنے والوں کو بھی بخشا نہیں جانا چاہئے ۔ ایسے عناصر کے تعلق سے اگر نرم رویہ اختیار کیا گیا اور انہیں کیفر کردار تک نہیں پہونچایا گیا تو دوسروں کیلئے عبرت کا سامان نہیں ہوگا اور جنون پسند دوسرے عناصر کی بھی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی ۔