نفرت کا ماحول آخر کب تک

   

Ferty9 Clinic

یہ کس نے شہر میں ویرانیاں بچھادی ہیں
سکوت ایسا کہ ہر لفظ مر گیا شاید
گنگا جمنی تہذیب والے ملک ہندوستان کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں ہر مذہب اور ہر کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے ۔ حکومت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن ہر مذہب کا احترام ضرور کیا جاتا ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے آئے ہیں۔ صدیوں سے یہ روایت رہی ہے تاہم حالیہ چند برسوں میں سماج میں نفرت پھیلاتے ہوئے سیاسی روٹیاں سینکنے کی روایت نے جڑ پکڑ لیا ہے اور یہ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ جس وقت سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے ایسا لگتا ہے کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے جنونیوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے ۔ راست یا بالواسطہ طور پر حکومت کی انہیں پشت پناہی مل رہی ہے ۔ خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تقریبا ہر گوشہ اب سرگرم ہوگیا ہے ۔ جو لوگ اپنے حقیقی رنگ چھپائے ہوئے بیٹھے تھے وہ بھی اب یکایک کھل کر سامنے آگئے ہیں اور اپنے حقیقی چہرے بے نقاب کرنے لگے ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت کو ایک ایسا ہتھیار بنالیا گیا ہے جو ناکامیوں کو بھی چھپانے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے اور سماج میں نفرت پیدا کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم و ایجنڈہ کی تکمیل کی جا رہی ہے ۔ کہیںکسی نہتے بے گناہ کو محض اس شبہ پر موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھاتا ہے ۔ کہیں کسی کو اس لئے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ کہیں عیسائیوں کی عبادتگاہوں پر حملے کرتے ہوئے وہاں توڑ پھوڑ اس لئے مچائی جاتی ہے کہ وہ لوگ تبدیلی مذہب کی مہم چلا رہے ہیں۔ اب ایک فلم کے ذریعہ نفرت پھیلانے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ فلم کو مذہبی فریضہ کی طرح پیش کرتے ہوئے ٹی وی چینلوں پر مباحث کئے جا رہے ہیں۔ عوام میں ایک طرح کا جنون پیدا کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے وزیرا عظم اور دوسرے بڑے سیاستدان اور وزراء بھی اس فلم کی تشہیر کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں ۔ فلم بنانے والوں کو سکیوریٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے ۔
جس طرح کہا جاتا ہے کہ آدھا سچ ‘ جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اسی طرح کہا جا رہا ہے کہ اس فلم میں بھی آدھا سچ پیش کیا گیا ہے اور اس کا بیشتر حصہ جھوٹ پر مبنی ہے ۔ اس فلم کے ذریعہ بھی روایت کو برقراررکھتے ہوئے مسلمانوں کو بدنام اور رسواء کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جس وقت کشمیر میں خون خرابہ ہوا اس وقت مرکز میں جنتادل کی حکومت تھی جو بی جے پی کی تائید سے قائم ہوئی تھی ۔ جس وقت یہ خون خرابہ ہوا اس وقت ریاست میں چیف منسٹر نہیں تھا بلکہ گورنر راج تھا جو بی جے پی کی تائید والی حکومت نے مقرر کیا تھا ۔ ان حقائق کو فلم میں پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ صرف ایک مسلمان چیف منسٹر کو اس کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایک طبقہ کو بدنام اور رسواء کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کام وہی طاقتیں کر رہی ہیں جو راست یا بالواسطہ طور پر کشمیر کے خون خرابہ کی ذمہ دار ہے ۔ اب یہ طاقتیں اپنی ناکامی اور نا اہلیت کو چھپانے کیلئے دوسروں پر اس کی ذمہ داری تھوپ رہی ہیں اور یہ بھی بہت افسوس کی بات ہے کہ آدھے سچ اور زیادہ جھوٹ کو دھڑلے سے پیش کیا جا رہا ہے اور ملک کے عوام بھی اس حقیقت کا پتہ چلانے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ جو بات ان کے ذہنوں میں انڈیلی جا رہی ہے اسی پر یقین کرتے ہوئے نفرت پھیلانے والوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن رہے ہیں۔ جس طرح سے ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے پراگندہ کیا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک رجحان ہے ۔
ملک کے سماجی تانے بانے پر اس کے نتیجے میں ہونے والے منفی اثرات کی کوئی پرواہ نہیں کر رہا ہے ۔ بے شمار کشمیری پنڈت آج بھی ایسے ہیں جو خون خرابہ کے دور میں مسلمانوں ہی کی پناہ میں تھے اور وہ آج بھی اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود مخصوص طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے فلم تیار کرنا اور اس کی تشہیر سیاسی اور سرکاری سطح پر کرتے ہوئے ملک کے ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا اچھی علامت اور اچھی روش ہرگز نہیں ہوسکتی ۔ انتخابی اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں جنہیں اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن ملک کے اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ کسی کو اس کی اجازت دی جانی چاہئے ۔
دنیا پر جنگ کے اثرات
یوکرین پر روس کے حملے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے ۔ اس حملے کو تین ہفتوں کا وقت ہونے چلا ہے لیکن ابھی تک نہ جنگ کو روکا جاسکا ہے اور نہ ہی اس کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آئی ہے ۔ دنیا کے ہر خطے میں اجارہ داری دکھانے والا امریکہ اور اس کے حواری مغربی ممالک نے ابھی تک صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیا ہے اور چند معاشی تحدیدات عائد کرتے ہوئے دور سے تماشہ دیکھنے لگے ہیں۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے ۔ انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں۔ عام شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ اور مغربی ممالک صرف زبانی بیان بازیوں پر اکتفاء کر رہے ہیں۔ جنگ کے اثرات اب دنیا پر بتدریج مرتب ہونے لگے ہیں۔ مہنگائی جو پہلے ہی سے بہت زیادہ تھی اب اور بھی بڑھنے لگی ہے ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ عوام کی جیبوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یوکرین اپنے طور پر بات چیت کیلئے دہائیاں دیتا نظر آ رہا ہے لیکن روس اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں اور عالمی طاقتوں کو اس جنگ کو ختم کروانے کیلئے سنجیدہ اور سرگرم کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ دنیا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔