نفرت کی سیاست ‘ پولیس کا دوہرا معیار

   

Ferty9 Clinic

اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
تم ہنسی تک بھی نہ پہونچے ہم فغاں تک آگئے
نفرت کی سیاست ‘ پولیس کا دوہرا معیار
دارالحکومت دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر ایک احتجاج ہوتا ہے ۔ اس میں کٹر فرقہ پرست افراد شرکت کرتے ہیں۔ مسلم دشمنی کو فیشن کی طرح اختیار کرنے والے فاشسٹ نظریات کے حامل افراد جمع ہوتے ہیں اور وہاں مسلمانوں کے خلاف نعرہ بازی کی جاتی ہے ۔ ان کی نسل کشی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہ احتجاج ملک میں انگریز دور حکومت کے قوانین کی برخواستگی اور ملک میں سب کیلئے ایک جیسا قانون نافذ کرنے کے مطالبہ پر ہوتا ہے ۔ جو لوگ احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے انہیں اپنے مطالبات کو جمہوری اور دستوری انداز میں پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے ۔ تاہم کسی کو بھی یہ حق یا اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نعرہ بازی کریں۔ انہیں دھمکیاں دینے کی کوشش کریں۔ انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جائے ۔ تاہم دہلی میں ایسا ہوتا ہے لیکن پولیس کی جانب سے کسی کو گرفتار نہیں کیا جاتا ۔ سوشیل میڈیا پر ایک پورا ویڈیو وائرل ہوا ہے اور اس میں نعرہ لگاتے ہوئے غنڈہ عناصر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے قائدین کی جانب سے یہ احتجاج کیا جاتا ہے ۔ وہ احتجاج میں شرکت بھی کرتے ہیں لیکن پولیس کسی کو بھی گرفتار کرنے سے یہ کہتے ہوئے گریز کر رہی ہے کہ ابھی ویڈیو کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ ذمہ دار افراد کی شناخت کی جائے گی اور پھر انہیں گرفتار کیا جائیگا ۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس احتجاج کو پولیس کی اجازت بھی حاصل نہیں تھی ۔ اس کے باوجود یہاں احتجاج کیا گیا ۔ جنتر منتر وہ مقام ہے جو پارلیمنٹ سے محض ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ یہ پولیس کی ناکامی ہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے ایک کیلومیٹر کے احاطہ پر بلا اجازت جمع ہونے والے افراد کو روک نہیں پاتی ہے ۔ بی جے پی کے قائدین کی جانب سے اس احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پولیس انہیں گرفتار کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی ہے ۔ جو لوگ نفرت کی سیاست کر رہے ہیں اور ملک میں نفرت پھیلا رہے ہیں انہیں کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے جس سے ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے ۔ اس طرح کے واقعات سے نمٹنے میں پولیس دوہرے معیارات اختیار کر رہی ہے ۔
پولیس کہیں کسی کو محض شک کی بنیاد پر حراست میں لے کر مہینوں جیل بھیج دیتی ہے ۔ کسی جائز مطالبہ پر احتجاج میں حصہ لینے والے جہد کاروں اور طلبا کو گرفتار کرکے انہیں ملک سے غداری کے مقدمات میں ماخوذ کردیتی ہے ۔ ان کے خلاف انتہائی سنگین دفعات عائد کئے جاتے ہیں۔ مہینوں تک ان کی ضمانت نہیں ہو پاتی ۔ ان میں حاملہ خاتون جہد کار بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور کچھ مثالیں تو ایسی بھی ہیں کہ احتجاج کے مقام پر کچھ جہد کار یا طلبا قائدین موجود بھی نہیں تھے اور انہیں بھی لوگوں کو اکسانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔ ا ب جبکہ ایک باضابطہ ویڈیو وائرل ہوتا ہے ۔ لوگ اس میں مخالف مسلمان نعرے لگا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو دھمکا رہے ہیں ‘ نعرے لگانے والوں کے چہرے دکھائی دے رہے ہیں ‘ احتجاج کیلئے عوام کو پولیس کی اجازت کے بغیر وہاں جمع ہونے کا اعلان کرنے والے موجود ہیں وہ لوگ بھی احتجاج میں شرکت کرتے ہیں لیکن پولیس یہ کہتی ہے کہ ابھی ذمہ دار افراد کی شناخت کی جا رہی ہے ۔ سب سے پہلے تو احتجاج کیلئے جمع کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے کہ انہوں نے کورونا قواعد کی خلاف ورزی کی ہے ۔ پابندیوں اور تحدیدات کے باوجود بھاری تعداد میں عوام کو جمع کیا جاتا ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل اس علاقہ میں پولیس کا وجود ہی دکھائی نہیں دیتا ہے ۔
پولیس کی اجازت کے بغیر ہونے والے اس احتجاج کے آرگنائزرس بی جے پی قائدین تھے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ جو لوگ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں اور نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں ان سے پولیس کے نرم رویہ اور حکومت کی جانب سے کوئی سرزنش نہ ہونے سے ان کی حوصلہ افز۔ائی ہو رہی ہے ۔ انہیں یقین ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی کرتے ہوئے وہ آزاد رہیں گے کیونکہ حکومت ان کو بچالے گی ۔ اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ پولیس کو پوری دیانتداری کے ساتھ کسی سیاسی مداخلت یا دباو کے بغیر نظم و قانون کی برقراری کیلئے کام کرنا چاہئے ۔