نفرت کے سوداگروںکو چھوٹ کیوں؟

   

Ferty9 Clinic

ملک میں اچانک ہی نفرت انگیز تقاریر میںاور اشتعال انگیزیوں میںاضافہ ہوگیا ہے اور کھلے عام ملک کے قانون و دستور کی دھجیاںاڑائی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات کئے جا رہے ہیں اور دوسری اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ عیسائی برادری پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ ان کی عبادتگاہوں میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے اور انہیں بھی خوفزدہ کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اس کے علاوہ بابائے قوم گاندھی جی کے تعلق سے انتہائی اہانت آمیز ریمارکس کئے جا رہے ہیں اور ان کی تضحیک و توہین سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ان سارے واقعات پر ملک بھر میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔عوام میںفکر لاحق ہوگئی ہے کہ آخر ایسے نفرت کے سوداگروں کے تعلق سے نرم رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے ۔ کیوں انہیں قانون کے مطابق کیفر کردار تک نہیں پہونچایا جا رہا ہے ۔ انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیوں نہیں کیا جا رہا ہے اور عدالتوں سے سخت سزائیںکیوں نہیںدلائی جا رہی ہیں جبکہ ان کے خلاف ویڈیوز کی صورت میں واضح ثبوت موجود ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کرسمس کے موقع پر عیسائی برادری کی عبادتگاہوں کو نشانہ بناکر حملے کئے گئے ۔ وہاں توڑ پھوڑ کی گئی ۔ اسی طرح ہردوار میں ایک دھرم سنسند اجلاس منعقد کرتے ہوئے ملک کے قانون و دستور کی دھجیاں اڑائی گئیں اور نفرت پھیلائی گئی ۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات کئے گئے ۔ ہندووں کو ہتھیار اٹھالینے کی ترغیب دی گئی ۔ ملک کا ماحول پراگندہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ یہ عناصر اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں جو ملک کی امن و امان کی فضاء کیلئے خطرہ ہیں۔ سماج میں نفرت پھیلاتے ہوئے اپنے جنون کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کی اقلیتوں کیلئے مسلسل خطرہ بنتے جا رہے ہیںاور ان کے خلاف دیگر ابنائے وطن کو ورغلایا جا رہا ہے ۔ ان کی تقاریر ملک کے امن و امان اور ہم آہنگی کیلئے سنگین خطرہ سے کم نہیںہے ۔ سماج کے تمام فکرمند اور ذمہ دار طبقات اس صورتحال متفکر ہیں اور انہیںکئی طرح کے اندیشے لاحق ہو رہے ہیں۔
ہندوستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ارون پرکاش نے ہردوار واقعہ پر فوری حرکت میںآتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے اقدامات پر زور دیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے وکلا اور جہد کاروں نے بھی چیف جسٹس کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے ایسے عناصر کی سرکوبی کی استدعا کی تھی ۔ آج ملک کی مسلح افواج کے پانچ سابق سربراہان نے بھی صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس طرح کے بیانات اور تقاریر پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ سابق فوجی سربراہان نے اپنے مکتوب میں بین الاقوامی سرحدات کی صورتحال کا تذکرہ بھی کیا ہے اور کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کے نتیجہ میںاندرونی طور پر مسائل پیدا ہونگے اور ملک کے اتحاد و یکجہتی پر اثر انداز ہونگے ۔ اس کے نتیجہ میںمرکزی مسلح پولیس دستوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں بیرونی طاقتوں کے حوصلے بلند ہوسکتے ہیں۔ ایسے عناصر کی سرکوبی کی جانی چاہئے اور اس صورتحال کا مداوا کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ فوجی سربراہان ‘ جہد کاروں اور اہم شہریوں نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ملک کی ایک برادری کے خلاف کھلے عام تشدد کے اعلانات کے سنگین نتائج و اثرات ہوسکتے ہیںاور کثیر جہتی معاشرہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ہردوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں جو تقاریر کی گئی ہیں ان کے مواد سے یہ لوگ انتہائی متفکر اور تشویش کا شکار ہیں ۔
اس سب کے باوجود مرکزی حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی خاموشی کے ذریعہ ایسے نفرت کے سوداگروں کی حوصلہ افزائی کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے اس پر تنقیدیں ہو رہی ہیںلیکن حکومت کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات کرنے والے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ گاندھی جی کی توہین و ہتک کر رہے ہیں۔ ان کے تعلق سے ناشائستہ ریمارکس کر رہے ہیں لیکن حکومت خاموش ہے ۔ ملک کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو اپنی خاموشی توڑنی چاہئے اور ایسے وحشی درندوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔