نمائشی سرگرمیوں کے بل بوتے پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش

   

کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد تلنگانہ میں بی آر ایس کی نئی حکمت عملی

حیدرآباد۔ 17 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی اسکیمات کو فراموش کرنے والی حکومت ’’یوم اقلیت‘‘ منانے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی کی تشہیر کرنے کا محکمہ اقلیت بہبود کے علاوہ دوسرے محکمہ جات کو حکم جاری کیا گیا ہے۔ ریاست میں جاریہ سال کے اواخر میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس پارٹی کی واضح اکثریت سے کامیابی کے بعد چیف منسٹر کے سی آر چوکنا ہوگئے ہیں۔ عوام میں حکومت کے تعلق سے پائی جانے والی ناراضگی کو دور کرنے اور تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کردیا ہے۔ 2 جون کو ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے 10 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ پارٹی قائدین کو عوام کے درمیان رکھنے کے لئے 21 دنوں پر مشتمل جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس جشن کے حصہ کے طور پر حکومت تمام محکمہ جات بالخصوص ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیتی اور خواتین و اطفال سے متعلق محکمہ جات کو ان 21 دنوں میں ایک دن خصوصی تقریب منانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی گئی ہیکہ وہ 9 سال کے دوران ریاست میں اقلیتوں کی ترقی و بہبود پر کتنا بجٹ خرچ کیا گیا۔ کونسی اسکیمات سے کتنے افراد کو فائدہ پہنچایا گیا اور کتنی رقم خرچ کی گئی۔ اس کی تفصیلات سے اقلیتوں میں شعور بیدار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ٹمریز کے قیام کے علاوہ دیگر اسکیمات کی بڑے پیمانے پر تشہیر بھی شامل ہے۔ ان پروگرامس کے لئے محکمہ جات کو اپنے اخراجات برداشت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم اجرائی سے کئی اسکیمات تعطل کا شکار ہے۔ مثلاً بے رومگار اقلیتی نوجوانوں کو قرض فراہم کرنے کے لئے 120 کروڑ روپے منظور کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اہل 12,000 افراد کا انتخاب بھی کرلیا گیا مگر حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہیں کیا گیا جس کی وجہ یہ اسکیم زیر التواء کا شکار ہوگئی۔ ائمہ موذنین کو جنوری سے اپریل تک ماہانہ اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا۔ مئی کا بھی نصف ماہ مکمل ہوگیا ہے۔ اس پر حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے۔ طویل عرصہ سے اقلیتی طلبہ کی فیس ریمبریسمنٹ اور اسکالر شپس جاری نہیں کی گئی۔ درگاہ جہانگیر پیراں کی ترقی کے لئے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مگر آج تک فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لئے صرف وعدے کئے جارہے ہیں جو صرف اعلانات تک محدود ہے۔ اس پر عمل آوری کے لئے فنڈز جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ حکومت نے ان 21 روزہ تقاریب کے لئے تقریباً 200 کروڑ روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس میں 70 کروڑ روپے صرف تشہیر پر خرچ کئے جائیں گے۔ ن