نواب ملک کی گرفتاری ‘ انتقام تو نہیں؟

   

Ferty9 Clinic

مرکزی تحقیقاتی ادارہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے آج مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک کو گرفتار کرلیا گیا جو این سی پی کے ترجمان بھی ہیں۔ نواب ملک حالیہ عرصہ میں سرخیوں میںرہے تھے جب انہوں نے منشیات سے متعلق مقدمہ میں تحقیقاتی عہدیدار سمیر وانکھیڈے کے خلاف مسلسل میڈیا کو مخاطب کیا تھا اور ان کے تعلق سے کچھ ثبوت و شواہد بھی منظر عام پر لانے کا دعوی کیا تھا ۔نواب ملک بی جے پی کی مرکزی حکومت کے خلاف تنقیدیں کرنے والوںمیںسر فہرست شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میںچیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے دورہ ممبئی اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کے بعد بھی حکومت کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی ۔ وہ تحقیقاتی اداروں پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے اور انتقامی جذبہ کے تحت کام کرنے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ نواب ملک کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کئے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈر ورلڈ کے عناصر کے ساتھ انہوں نے کچھ معاملتیں کی ہیں اور جائیدادیں خریدی ہیںجو مبینہ طور پر تحقیقات کے دائرہ میں ہیں۔ نواب ملک کو پہلے تو ای ڈی کے دفتر طلب کیا گیا جہاںان سے تقریبا پانچ گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی اور پھر انہیں باضابطہ گرفتار کرلیا گیا ۔ مہاراشٹرا میںمرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانبگسے گذشتہ چار مہینوںمیں گرفتار کئے جانے والے وہ دوسرے ریاستی وزیر ہیں۔ ویسے توسارے ملک میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوںسے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین اور عہدیداروںکو نشانہ بناتے ہوئے انتقامی جذبہ کے تحت مقدمات درج کئے جا رہے ہیں اور انہیںہراساں کیا جا رہا ہے ۔ این سی پی اور دیگر حلقوںمیںاب بھی یہی تاثر ہے کہ نواب ملک کے خلاف بھی انتقامی جذبہ کے تحت کارروائی کی گئی ہے ۔ نواب ملک نے بھی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس طرح کی سیاست کے آگے جھکیں گے نہیں۔ نواب ملک کی گرفتاری نے سیاسی حلقوں میںہلچل پیدا کردی ہے ۔
اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین کو مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ مقدمات درج کرتے ہوئے ہراساں کیا گیا ہے ۔ جو قائدین ان تحقیقات سے خوفزدہ ہوگئے اور انہوں نے بی جے پی کی جھولی میںپناہ لی ان کے مقدمات کہیںپس پشت چلے گئے ہیں۔ ان میں تلگودیشم سے تعلق رکھنے والے تین ارکان راجیہ سبھی کی مثال مو جود ہے ۔ ان کے خلاف ای ڈی کی جانب سے مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ تینوں ہی بی جے پی میںشامل ہوگئے اور اپوزیشن کے الفاظ میںیہ تینوں بی جے پی کے واشنگ شین میں دھل کر تمام کالے کرتوتوں سے پاک ہوگئے ہیں۔ اسی طرح مغربی بنگال میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا ۔ وہ اسمبلی انتخابات سے دو سال پہلے سے حالات بگاڑنے کی کوششیں ہوتی رہیں ۔ ترنمول کانگریس کے کئی قائدین اور ریاستی وزراء کے خلاف بھی مقدمات درج کئے گئے اور انہیںجیلوں کو بھی بھیجا گیا ۔ کئی قائدین مقدمات کے خوف سے بی جے پی میںشامل ہوگئے اوراب ان کے مقدمات کا کوئی بھی کہیں بھی تذکرہ نہیں کرتا ۔ اس طرح اپوزیشن کے جو الزامات ہیں کہ بی جے پی ایک واشنگ مشین ہے جس میںشامل ہونے والے اپوزیشن کے قائدین تمام مقدمات سے پاک ہوجاتے ہیں وہ یکسر مسترد نہیں کئے جاسکتے ۔ یہ الزام در اصل کئی مثالوں کو پیش کرتے ہوئے لگایا جاتا ہے اورابھی تک یہ الزامات غلط بھی ثابت نہیں کئے جاسکے ہیں۔ ان پر شبہات اب بھی برقرار ہیں۔
اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے آج مہاراشٹرا کے ایک وزیر کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے خلاف بھی سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ نواب ملک نے اگر واقعی کچھ غلط کیا ہے تو ان سے کسی طرح کی رعایت بھی نہیں کی جانی چاہئے لیکن کسی کو محض سیاسی مخالفت کی بناء پر مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو یہ بھی قابل مذمت اور افسوسناک ہی کہی جاسکتی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کا جہاں تک سوال ہے یہ ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی سیاسی اثر و رسوخ کے بغیر کام کریںا ور پیشہ ورانہ دیانت اور غیر جانبداری کے ساتھ تحقیقات کریں ۔ جہاں کوئی قصور وار بچنا نہیںچاہئے وہیں کسی بے قصور کو پھانسا بھی نہیں جانا چاہئے ۔