نئی دہلی، 23 جون (آئی اے این ایس) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پیرکو نوجوانوں، خصوصاً اکاؤنٹنٹس پر زور دیا کہ وہ 2047 تک ہندوستان کو وکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت) بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی ایم اے آئی) کے نیشنل اسٹوڈنٹس کانووکیشن سے خطاب کر رہی تھیں۔ صدر مرمو نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ یہ یاد رکھیں کہ ان کی ذمہ داریاں صرف مالیاتی حسابات تک محدود نہیں بلکہ ان کا اثر قوم کی ترقی پر بھی پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا بطورکاسٹ اکاؤنٹنٹس، آپ ہندوستان کی تبدیلی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئی سی ایم اے آئی کی دی گئی تعلیم آپ کو نہ صرف کامیاب پیشہ ور بنائے گی بلکہ قوم کا معمار بھی بنائے گی۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ تاریخ کے ہر دور میں اکاؤنٹنٹس کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے کیونکہ حساب اور احتساب آپس میں گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی بحران پر بھی بات کی اور کہا کہ آج دنیا کو موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پائیداری اب کوئی نعرہ نہیں بلکہ وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں کارپوریٹ ادارے صرف منافع کو مقصد نہیں بناتے بلکہ ماحولیاتی اخراجات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، اور ایسے میں کاسٹ اور مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس ماحولیات کے تحفظ کیلئے ایک بڑا فرق لا سکتے ہیں۔ صدر مرمو نے آئی سی ایم اے آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہندوستانی معیشت کو دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل کرنے میں ایک خاموش لیکن مؤثر شراکت دار رہا ہے۔ انہوں نے کہا،آئی سی ایم اے آئی نے پس پردہ رہ کرکام کیا ہے، لیکن اقتصادی اور کارپوریٹ تاریخ کے ماہرین اس کے ان پٹ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ آخر میں صدر جمہوریہ نے کہا کہ آئی سی ایم اے آئی پالیسی سازوں، مرکزی و ریاستی حکومتوں اور مختلف اداروں کو مؤثر اور کم لاگت کی حکمت عملی بنانے میں قیمتی تعاون فراہم کر رہا ہے۔