نئی دہلی: نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ نے منگل کو نوجوانوں سے نئے آئیڈیاز کو کھلے ذہن کے ساتھ قبول کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ ‘نئے سرے سے ابھرنے والے ہندوستان کے علمبردار’’ ہیں۔آج ہریانہ کے روہتک میں مہارشی دیانند یونیورسٹی کے کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج نوجوانوں کے لیے مواقع کی بڑی گنجائش ہے اور موجودہ ماحول میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔ طلباء کو زندگی بھر علم اور سیکھنے کی جستجو کو جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان بڑی حد تک سوامی دیانند کے خوابوں کا عکاس ہے ۔نوجوانوں کو “ابھرتے ہوئے ہندوستان کے علمبردار” قرار دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ نوجوانوں نے زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے ، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بنایا ہے اور ان کا تعاون ایسا ہے کہ ہندوستان سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، مشین لرننگ، گرین ہائیڈروجن اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی ٹیکنالوجیز کا سامنا ہے ، جس کے پیش نظر حکومت نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے 6000 کروڑ روپے اور گرین ہائیڈروجن مشن کے لیے 9000 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا ہے ۔ اس سرمایہ کاری کی وجہ سے 2030 تک 8 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی اور تقریباً چھ لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی۔ دھنکھر نے کہا کہ دیانتداری، احتساب اور شفافیت حکمرانی کے ایسے عناصر ہیں جن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
