نوجوت سنگھ سدھو کی ایک اور قلا بازی

   

Ferty9 Clinic

دوست بظاہر دوست ہیں لیکن درپردہ
سازش کا اک جال بچھائے بیٹھے ہیں
پنجاب کانگریس کا بحران پارٹی کیلئے ایک معمہ اور درد سر بنتا جا رہا ہے اور وہاں صورتحال قابو میں آتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ پارٹی کیلئے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پارٹی اپنے طور پر کچھ فیصلے کر رہی ہے تاکہ حالات بہتر ہوسکیں اور اختلافات کو ختم کیا جاسکے لیکن کوئی بھی سینئر اور ذمہ دار لیڈر ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلوں کو قبول کرنے تیار نہیں ہے ۔ کانگریس پارٹی پنجاب میں ایک ایسی گاڑی بن گئی ہے جسے ہر ڈرائیور اپنے راستے پر چلانا چاہتا ہے اور ہر کوئی گاڑی کا اسٹیرنگ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے ۔ مرکزی قیادت یا اس کے فیصلوں کو خاطر میں لانے کیلئے کوئی تیار نظر نہیںآتا ۔ 10 دن قبل ہی ریاست میں چیف منسٹر امریندر سنگھ نے استعفی پیش کردیا تھا کیونکہ انہیں اعتراض تھا کہ مرکزی قیادت ان کی رائے کے بغیر فیصلے کر رہی ہے اور ان کی علم و اطلاع کے بغیر ارکان اسمبلی کے اجلاس طلب کئے جا رہے ہیں۔ پارٹی نے امریندر سنگھ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پارٹی کی ریاستی یونٹ کے صدر نوجوت سنگھ سدھو پر بھروسہ کیا ۔ حالانکہ سدھو کو پردیش کانگریس کا صدر بنادیا گیا تھا لیکن سدھو اس سے مطمئن نہیں ہوئے تھے اور انہوں نے زیادہ شدت کے ساتھ چیف منسٹر کے خلاف سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا ۔ امریندر سنگھ کے استعفے اور نئے چیف منسٹر کی حیثیت سے چرنجیت سنگھ چنی کی حلف برداری کے بعد یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پارٹی کیلئے بحران کی کیفیت ختم ہوگئی ہے تاہم اچانک ہی حالات نے پلٹی کھائی اور کسی بھی صورتحال سے مطمئن نہ رہنے والے نوجوت سنگھ سدھو نے آج اچانک ہی پردیش کانگریس کی صدارت سے استعفی پیش کردیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ سدھو ریاستی کابینہ کی تشکیل اور اس میں کچھ افراد کی عدم شمولیت سے ناراض ہوگئے تھے ۔ انہیں کچھ کابینی تقررات پر بھی اعتراض تھا حالانکہ کابینہ کی تشکیل اور کسی کو وزارت دینا یا نہ دینا یہ چیف منسٹر کا اختیار تمیزی ہوتا ہے لیکن سدھو پس پردہ سوپر چیف منسٹر کی حیثیت سے کام کرنا چاہتے تھے اور اس کا موقع نہ ملنے پر انہوں نے آج ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ریاستی صدارت سے استعفی پیش کردیا ۔
یہ دعوے بھی کئے جا رہے ہیں کہ سدھو کی تائید میں پنجاب کابینہ کے کچھ ارکان بھی مستعفی ہوسکتے ہیں حالانکہ سدھو نے کانگریس میں برقرار رہنے کا اعلان کیا ہے لیکن ان کے اس فیصلے سے پارٹی کو بہت بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ اس کے علاوہ پارٹی کا چیف منسٹر کی حیثیت سے امریندر سنگھ کے استعفے کو قبول کرلینے اور ان سے زیادہ سدھو کو اہمیت دینے کا فیصلہ یکسر غلط ثابت ہوگیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کی مرکزی قیادت کو ریاستی یونٹ کے حالات اور وہاں قائدین کی اہمیت اور ان کے مزاج سے مکمل وقفیت حاصل نہیں ہے ۔ اس معاملے میں اترپردیش کے امور کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ انہوں نے ہی سدھو پر زیادہ بھروسہ کیا تھا اور اپنے اثر و رسوخ کے ذریعہ انہوں نے سدھو کی راہول گاندھی سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا تھا ۔سدھو کے استعفے پر کیپٹن امریندر سنگھ نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی قیادت سے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ سدھو پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ قابل بھروسہ شخصیت نہیں ہیں۔ سدھو کے استعفے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ جہاں ریاستی یونٹ کیلئے ہی نہیں بلکہ خود مرکزی قیادت کیلئے بھی ہزیمت والی کہی جاسکتی ہے ۔ پارٹی کی مرکزی قیادت ریاست کی صورتحال کو حقیقی معنوں میں سمجھ نہیںپائی اور وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ایک ریاستی یونٹ کے بحران کو موثر ڈھنگ سے حل کرنے اور قائدین کو اعتماد میں لے کر اتحاد کی تصویر پیش کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔
نوجوت سنگھ سدھو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رہ چکے تھے ۔ بعدمیں وہ کانگریس میںشامل ہوئے ۔ کانگریس کے اسٹار کیمپینر بنائے گئے تھے ۔ انہیں پنجاب میں وزارت دی گئی تھی ۔ وہ وزارت سے علیحدہ ہوگئے ۔ پردیش کانگریس کا صدر بنایا گیا ۔ چیف منسٹر کو ان کی وجہ سے تبدیل کرنا پڑا ۔ اس سب کے باوجود سدھو مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے اب ریاستی صدارت سے بھی استعفی پیش کردیا ۔ ان کی اس تازہ ترین قلا بازی نے پارٹی کی مرکزی قیادت کو عملا ہراساں کردیا ہے اور یہ اندیشے سر ابھارنے لگے ہیں کہ کانگریس کا نقصان پنجاب میں کہیں عام آدمی پارٹی کے فائدے میں نہ بدل جائے ۔