نوح تشدد: ممن خان کو14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیاگیا

   

گروگرام: فیروز پورجھرکا سے کانگریس کے ایم ایل اے ممن خان جن پر ہریانہ کے نوح میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے، کو منگل کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں نے ان کے خلاف درج چاروں مقدمات میں انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ خان کی عدالت میں پیشی کے باعث ضلع بھر میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے۔ عدالت کی طرف جانے والی سڑکوں پر 200 سے زائد پولیس اہلکار تعینات تھے۔جمعہ کو ان کی گرفتاری کے بعد ایم ایل اے کو چار دن کے لیے پولس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ نوح پولیس نے ملزم ایم ایل اے کے خلاف چار ایف آئی آر درج کی تھیں۔لیڈرکی گرفتاری کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا کہ خان نگینہ علاقے میں یاترا پر فرقہ وارانہ حملے کے اہم سازش کاروں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس کا فون اور لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیا ہے اور مقدمات میں گرفتار شریک ملزمان کے ساتھ اس کی مبینہ ملاقات سے متعلق کسی بھی ثبوت کے لیے اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم خان کے وکلاء اور حامیوں نے کہا ہے کہ انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ایس آئی ٹی نے ریمانڈ کی مدت میں خان سے پوچھ گچھ کی تھی۔
انہوں نے ایس آئی ٹی کے سوالات کو ٹال دیا تھا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم تعاون نہیں کررہا، حقائق چھپا رہا ہے اور اس کا فون فارمیٹ ہے۔ ایس آئی ٹی ایم ایل اے کی حفاظت میں لگے سیکورٹی اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کرے گی۔خان کو31 جولائی کو ضلع نوح میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں جمعہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس تشدد میں دو ہوم گارڈز اور ایک مولوی سمیت چھ افراد ہلاک اورکم ازکم 88 دیگر زخمی ہوئے۔