عوام کو مشکلات ، بلڈرس مالی مسائل کا شکار
حیدرآباد۔17 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں نوٹری کی جائیدادوں اور غیر منظورہ جائیدادوں کی رجسٹری پر عائد امتناع کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر منظورہ جائیدادوں اور نوٹری کی جائیدادوں پر عائد کئے گئے امتناع پر اب سپریم کورٹ کے حکم التواء کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ریاست بھر میں قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ریاست بھر میں موجود غیر مجاز اور غیر منظورہ جائیدادوں کے رجسٹریشن پر عائد کردہ پابندی کے بعد سے صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف عام شہریوں پر مرتب ہورہے ہیں بلکہ تعمیراتی خدمات انجام دینے والے بلڈرس جنہوں نے منظورہ منصوبہ سے انحراف کرتے ہوئے تعمیرات کی ہیں وہ بھی مالی مسائل سے دو چار ہونے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عائد امتناع کے بعد غیر منظورہ و غیر مجاز تعمیرات کے مالکین عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اپنی جائیدادوں کی فروخت کی اجازت اور ان کی رجسٹری کی اجازت حاصل کر رہے تھے لیکن اس کے بعد سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک درخواست پر سپریم کورٹ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے بعد ریاست بھر میں ایسی تمام جائیدادوں کے رجسٹریشن کو مکمل طور پر بند کردیئے جانے کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ماہرین قانون کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق ریاست میں بالخصوص ریاست کے شہر وں اور اضلاع میں غیر مجاز و غیرمنظورہ عمارتوں کی خرید و فروخت پر امتناع عائد کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن اس کے منفی اثرات برآمد ہونے لگے ہیں اور خود محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے علاوہ محکمہ مال کی آمدنی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اس پابندی کو برخواست کرنے کے بجائے حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت اگر واقعی غیر منظورہ و غیر مجاز تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کرنا چاہتی ہے تو ایسی صورت میں نوٹری کی جائیدادوں کی رجسٹری اور غیرمجاز و غیر منظورہ تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کا ایک موقع فراہم کرنے کے بعد اس طرح کی سختی کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں جن علاقوں کے مکینوں کو اپنی جائیدادوں کو فروخت کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کے علاقہ کے مکینوں کا کہناہے کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی جائیدادیں رکھتے ہوئے بھی معاشی مسائل کا شکار ہیں ۔ جائیداد مالکین کہہ رہے ہیں کہ ان کی جائیدادوں کے خریدار موجود ہیں لیکن سرکاری پابندی ان جائیدادوں کی فروخت میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔