نوٹری جائیدادوں کی رجسٹری نہ ہونے سے مشکلات

   


جائیداد مالکین کو پریشانی، حکومت کی خاموشی سے تشویش

حیدرآباد۔13نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے 500 گز سے کم کی نوٹری جائیدادوں کی رجسٹری کا موقع دیئے جانے کی صورت میں غریب طبقہ کو بڑی راحت حاصل ہوسکتی ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد تیقنات کے باوجود نوٹری کی جائیدادوں کی فروخت کے سلسلہ میں کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے نوٹری جائیداد مالکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔نوٹری کی جائیدادوں کو رجسٹری کا موقع فراہم کرنے کے سلسلہ میں کابینی ذیلی کمیٹی کی تشکیل دینے کا تیقن دیا گیا تھا اور اسمبلی اجلاس کے دوران بھی نوٹری جائیدادوں کی رجسٹری کا موقع فراہم کرنے کے لئے مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک اس سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹری کی جائیدادوں کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں کوئی احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جس کے سبب ان جائیدادوں کے مالکین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے نوٹری پر جائیدادیں خریدی ہوئی ہیں اور اب رجسٹری کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں لاکھوں ایسی جائیدادیں ہیں جو کہ نوٹری پر فروخت کی گئی ہیںلیکن ان کی رجسٹری نہیں ہوپائی ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹری کی جائیدادوں کی رجسٹری نہ کرنے کے فیصلہ کے بعد سے جوصورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے کئی جائیداد مالکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جو مالکین جائیداد اپنی نوٹری والی جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مناسب خریدار نہیں مل پارہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں اصلاحات کے نام پر کی جانے والی کوششوں کے درمیان ریاست تلنگانہ میں چھوٹی چھوٹی جائیدادوں کے مالکین جو نوٹری پر مکان یا دکان خریدے ہوئے ہیں وہ مسائل کا شکار بن رہے ہیں۔رئیل اسٹیٹ معاملتوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے کم از کم ان جائیدادوں کے لئے جو 500 گز سے کم کی ہیں اور نوٹری پر ہے رجسٹری کے لئے احکام جاری کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں لاکھوں مالکین جائیداد کو اس کا فائدہ ہوگا اور وہ اپنی جائیدادوں کی رجسٹری کے اقدامات کو یقینی بناسکتے ہیں۔محکمہ مال اور اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ اگر ریاستی حکومت نوٹری کے ذریعہ اراضیات کی خریدی وفروخت پر روک باقی رکھنا چاہتی ہے تو رکھ سکتی ہے لیکن اگر چھوٹی جائیدادوں کے لئے راحت فراہم کرنے کے اقدامات کی صورت میں عام شہریوں کو اس کا فائدہ حاصل ہوگا۔م