سپریم کورٹ میں جملہ 58 درخواستیں موجود، نومبر 2016ء کے فیصلہ کو چیلنج
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو کہا کہ وہ 12 اکتوبر کو اس بات پر غور کرے گی کہ نومبر 2016 کے نوٹ بندی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کیلئے کیا مناسب ہو سکتا ہے۔ جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس بی آر گوائی، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگارتھنا کی آئینی بنچ نے اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے 12 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ درخواستوں پر غور کیا جانا چاہیے یا یہ ایک اکیڈمک مشق بن گئی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 کی رات اچانک 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر اگلے دن سے عمل ہوگیا۔مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو 58 عرضیوں کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ لوگوں کی محنت کی کمائی کو مناسب موقع فراہم کیے بغیر ضبط کیا گیا۔سالیسٹر جنرل تشار مہتہ مرکز کی طرف سے پیش ہوئے ، نے آج کہا کہ یہ مسئلہ اب تمام مقاصد سے متعلق نہیں رہا۔ یہ صرف ایک علمی مشق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بحث کیلئے تیار ہیں۔بنچ نے زیر التواء مقدمات کی بڑی تعداد کا حوالہ دیا کہ مقدمات کو اکیڈمی مشق کے لیے کیوں لیا جائے ۔عدالت عظمیٰ کے سامنے کل 58 درخواستوں پر غور کرتے ہوئے کئی وکلاء نے دعویٰ کیا کہ یہ مسئلہ متعلقہ ہے اور اس عدالت سے فیصلہ کی ضرورت ہے ۔اس پر بنچ نے کہا کہ دو پہلو ہیں ۔