نکاح تقاریب میں بے جا رسومات ، متمول گھرانے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کوشاں

   

حیدرآباد کے عیش و عشرت کی شادیوں پر علماء و معززین کا اظہار تشویش ، بیجا رسومات کے خلاف مہم کی ضرورت
حیدرآباد۔9۔ڈسمبر(سیاست نیوز) نکاح کی تقاریب میں ہونے والے اسراف اور بے جا رسومات کے خلاف فوری اثر کے ساتھ شہر حیدرآباد میں مہم کے آغاز کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کیونکہ آئے دن شہر حیدرآباد میں منعقد ہونے والے نکاح تقاریب سے قبل مہندی اور سانچق کے علاوہ دیگر تقاریب کے نام پر کی جانے والی بے حیائی کو فروغ حاصل ہونے لگا ہے علاوہ ازیں نکاح کے دن بھی بے جا اسراف کی نت نئی مثالیں قائم کی جا نے لگی ہیں ۔ دونوں شہرو ں حیدرآباد وسکندرآباد کے شادی خانوں میں منعقد ہونے والی تقاریب میں کئے جانے والے اسراف کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ دونوں شہروں میں متمول گھرانوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ان کو دیکھ کر متوسط خاندانوں کی جانب سے بھی تقاریب کے بہترین انعقاد کے لئے قرض کے حصول سے بھی گریز نہیں کیا جا رہاہے بلکہ قرض حاصل کرتے ہوئے جھوٹی شان کا مظاہرہ کیاجانے لگا ہے۔گذشتہ دو برسوں کے دوران دنیا بھر میں جس طرح کے حالات کا سامنا تاجرین ‘ ملازمین ہی نہیں بلکہ ہر طبقہ کو شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو کرنا پڑا ہے ان حالات کے باوجود بھی شہر حیدرآباد کی شادی بیاہ کی تقاریب میں کسی قسم کی تبدیلی نہ آنے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اور شادیوں میں کئے جانے والے اسراف میں کسی قسم کی کمی نہ دیکھے جانے پر ملک کے دیگر شہروں کے علماء اکرام‘ معززین کے علاوہ متفکرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ دنیا بھر کو معاشی بدحالی کا سامنا ہے اور ہندستان میں مسلمانو ںکی حالت انتہائی پسماندہ قرار دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد میں مسلمانوں کی شادی و بیاہ یا اس سے قبل کی جانے والی غیر شرعی رسومات کو دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جار ہاہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی محض دکھاوا ہے۔ جاریہ سال کے اوائل میں مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں دارالقضاء و دارالافتاء کی جانب سے غیر شرعی رسومات والی نکاح تقاریب میں نہ صرف شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا بلکہ ایسی تقاریب میں قاضی کی جانب سے نکاح کی کاروائی اور نکاح بھی نہ پڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ قاضی سید مشتاق علی ندوی‘ مفتی محمد عبدالکلام قاسمی‘ قاضی سید بابر حسین ندوی ‘ مفتی رئیس احمد خان قاسمی ‘ مفتی جسیم داد خان جامعی ‘ قاضی محمد شرافت رحمانی کی دستخط سے جاری کئے گئے اعلان میں کہا گیا تھا علماء اکرام سے مشورہ کے بعد یہ طئے کیا گیا ہے کہ جس نکاح میں رقص و سرور ‘ بیانڈ باجہ ‘ ڈی جے یا آتش بازی ہوگی اور پردے کا اہتمام نہ کرنے کے علاوہ فضول خرچی کی جائے گی اور بے جا رسم و رواج ہوں گے وہاں قاضی نکاح نہیں پڑھائیں گے اور املت اسلامیہ سے اس طرح کی شادیوں میں شرکت سے گریز کی اپیل کی گئی تھی ۔ شہر حیدرآباد وسکندرآباد میں متمول طبقہ کی جانب سے کی جانے والی حرکتوں اور فضول خرچی کو دیکھتے ہوئے متوسط طبقہ کی جانب سے ان کی مسابقت ملت کے بڑے حصہ کو معاشی بدحالی اور پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے اہل علم و دانش بالخصوص علماء اکرام‘ مفتیان عظام ‘ مشائیخین کے علاوہ سرکردہ سیاسی قائدین اور ذمہ داران ملت اسلامیہ کو اس خصوص میں فوری توجہ دیتے ہوئے ملت کو بدحالی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔م