سپریم کورٹ کی کثیر رکنی بنچ سے رجوع ۔ شریعت میں مداخلت کی کوشش
ممبئی : نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کو غیر قانونی قرار دینے والی مشترکہ عرضداشتوں پر آج سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے نیشنل ہیومن رائٹ کمیشن، نیشنل کمیشن آف وومن اور نیشنل کمیشن آف مائناریٹیز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔سپریم کورٹ آف انڈیا کی کثیر رکنی بنچ کے جسٹس اندرا بنرجی، جسٹس ہیمنت گپتا، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس سدھانشو دھولیہ نے اشونی کمار اپادھیائے، نیش حسن، محسن بن حسین،نفیسہ خان اوثمینہ بیگم و دیگر کی جانب سے داخل عرضداشتوں کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا اور ان تمام عرضداشتوں پر سماعت دسہرے کے تہوار کے بعد کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ اس معاملے میں جمعیۃعلماء ہند نے مداخلت کار کی حیثیت سے عرضداشت داخل کی ہے، دوران سماعت جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول اور ان کے معاونین وکلاء موجود تھے۔واضح رہے کہ مشترکہ عرضداشتوں میں ایک عرضداشت ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے نے بھی داخل کی تھی جو نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی کے رضاکار ہیں۔ اشونی کمار نے اپنی عرضداشت میں شریعت ایکٹ 1937 کی دفعہ 2 کو ختم کرنے کیلئے استدلال پیش کیا تھا ۔ یہ دفعہ نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کو قانونی حیثیت دیتا ہے کیونکہ یہ خواتین کے بنیادی حقوق(آرٹیکل 14، 15 ، 21) کے منافی ہے۔